Al-Risala · December 2014 · page 15

ہدایت اور ضلالت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۵

ہدایت اور ضلالت

قرآن بلاشبہ کتابِ ہدایت ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کے لیے صراطِ مستقیم کیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قرآن سے ہدایت پانے کا انحصار اس پر ہے کہ آدمی خود ہدایت کا طالب ہے یا نہیں۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: یضل به كثيرا ويهدی به كثيرا وما يضل به إلا الفاسقين (2:26) یعنی اللہ قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعے سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے، اس کے ذریعے اُن لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔

یہاں یہ سوال ہے کہ ایک ہی کتاب (قرآن) کس طرح ہدایت کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور ضلالت کا ذریعہ بھی۔ یہ معاملہ اُس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ یہ ذہن میں رکھا جائے کہ قرآن کا موضوع کیا ہے۔ یہ فرق موضوع (subject) کے فرق کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔

علمی اعتبار سے، موضوع کی دو قسمیں ہیں۔ ایک سائنسی موضوع اور دوسرا انسانیاتی موضوع۔ سائنسی موضوع میں ریاضیات مدار استدلال ہوتی ہے۔ ریاضیات میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی، اور اگر کوئی شخص اختلاف کرے تو نہایت آسانی کے ساتھ اس کو سٹل (settle) کیا جا سکتا ہے۔ لیکن انسانیات (humanities) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں ہمیشہ اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، اور اگر کوئی شخص اختلاف کرے تو اس کو ختم کرنے کی کوئی حتمی بنیاد نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے: السارق والسارقة فاقطعوا أيديهما (5:38)۔

بظاہر یہ ایک حکم ہے، لیکن لوگوں نے مختلف انداز میں اس کی تاویل کی ہے۔ مثلاً کوئی کہتا ہے کہ اُس سے مراد ہر سارق (چور) ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس سے مراد صرف عادی سارق ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سارق کی صرف انگلی کاٹنا کافی ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا پورا ہاتھ کاٹنا ضروری ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اس آیت میں ”قطع ید“ کا لفظ اپنے حقیقی معنی میں ہے اور کوئی کہتا ہے کہ قطع ید سے مراد علامتی قطع

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page