Al-Risala · December 2014 · page 16

ہدایت اور ضلالت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶

ہے، نہ کہ حقیقی قطع، غیرہ۔

قرآن کی آیتوں کی تاویل میں اس قسم کا اختلاف ہمیشہ ممکن رہتا ہے۔ ایسا کوئی فارمولانہیں جس سے اس تفسیری تعدد کو حتمی طور پر ختم کر دیا جائے، جس طرح دو اور دو چار کے معاملے میں ممکن ہوتا ہے۔ قرآن کے معاملے میں حتمی تاویل ایک انفرادی معاملہ ہے، یعنی جو شخص کسی تاویل کو مان لے، وہ اس کے لیے حتمی تاویل بن جائے گی، ورنہ نہیں۔

قرآن کے کلام کی نوعیت کسی کمی کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن صرف بیانِ حقیقت (statement of fact) نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی سنجیدگی کا امتحان بھی ہے۔ قرآن اگر دو اور دو چار کی زبان میں ہوتا تو اس کے قاری کا امتحان نہیں ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں قرآن میں جبر (compulsion) کا عنصر شامل ہو جاتا، اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جبر اور آزادانہ امتحان (test) دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

اصل یہ ہے کہ قرآن حقیقت و واقعہ کا ایک اظہار ہے۔ اب جو شخص حقیقت کا سچا متلاشی ہو، یعنی وہ اس معاملے میں آخری حد تک سنجیدہ ہو کہ اس کو سچائی کو دریافت کرنا ہے، اس کا یہ احساس ہو کہ اگر وہ سچائی کو دریافت کیے بغیر مر جائے تو اس کی موت ایک بد ترین قسم کی ناکام موت ہوگی، تب وہ ضرور سچائی کو پا لے گا۔

کسی شخص کے اندر اس ذہن کا موجود ہونا اپنے آپ میں اس بات کی ضمانت ہے کہ حقیقت جب اس کے سامنے ظاہر ہو تو وہ اس کے انکار کا تحمل نہ کر سکے ۔ وہ اپنے سدا د فکر (sound thinking) کی بنا پر التباس کے عناصر (elements of doubt) کا تجزیہ کر کے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا دے۔ ایسا شخص کبھی گمراہ نہ ہوگا۔ اس کا حال اُس انسان جیسا ہو جائے گا جس کے سامنے حقیقت آئے تو وہ فوراً اس کو پہچان لے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں یکاد زیتها یضیئ ولو لم تمسسه نار (24:35) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ (24 جون 2014)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page