ایک انسانی کمزوری
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۷
ایک انسانی کمزوری
انسان کی یہ ایک عام کمزوری ہے کہ وہ ملے ہوئے کو اپنے خانہ میں ڈال لیتا ہے اور نہ ملے ہوئے کو دوسرے کے خانہ میں۔ اس کا مہلک نتیجہ (disastrous result) یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں بیجا فخر (false pride) میں مبتلا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے بارے میں بیجا شکایت (false complaint) میں۔ اس کے بجائے یہ ہونا چاہئے کہ آدمی ملی ہوئی چیز کو عطیہ الہی (divine gift) سمجھے اور نہ ملی ہوئی چیز کو اپنی کوتاہی کے خانہ میں ڈال دے۔ یہ دونوں عادتیں انسانی شخصیت کی تعمیر میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک عادت سے انسان کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے، اور دوسری عادت سے، اس کے اندر منفی شخصیت بنتی ہے، اور اس دنیا میں منفی شخصیت سے بری کوئی چیز نہیں۔
اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنی معرفت کو بڑھائے۔ وہ اپنے آپ کو حقیقت شناسی کی وسعت تک پہنچائے۔ اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللهم أرنا الأشیاء كماهي (خدایا، مجھ کو اس قابل بنا کہ میں چیزوں کو ویسا ہی دیکھوں، جیسا کہ وہ ہیں) آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ وہ چیزوں کوایزاٹ از (as it is) نہیں دیکھ پا تا۔ وہ اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ اندازہ (overestimation) کرتا ہے۔ اور دوسروں کے بارے میں ضرورت سے کم اندازہ (underestimation) میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ مزاج نہایت مہلک ہے۔ جو لوگ اس غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا شکار ہوں، اُن کے لیے یہ اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں ناکام ہو جائیں، اور آخرت میں بھی ناکام۔
صحیح یہ ہے کہ آدمی کے اندر اپنے بارے میں تواضع (modesty) کا مزاج ہو۔ یعنی اپنے آپ کو کم سمجھے، اور دوسروں کے بارے میں، اُس کے اندر اعتراف (acknowledgement) کا مزاج ہو۔ یہی مزاج اس دنیا میں، آدمی کی کامیابی کا ضامن ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues