Al-Risala · February 2014 · page 8

امت کا دور زوال

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۸

امت کا دور زوال

امت مسلمہ کے دور زوال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں گو یا پیشگی تنبیہ (advance warning) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان روایتوں کا مقصد یہ ہے کہ امت کے رہنما پیشگی طور پر زوال کی علامتوں کو جان لیں اور اُن کی اصلاح کے لیے سرگرم ہو جائیں۔ اگرچہ اس معاملے میں امت مسلمہ کا حال بھی عملاً وہی ہوا جو پچھلی امتوں کا ہوا تھا، یعنی پیشگی تنبیہات کے باوجود اصلاح حال میں ناکامی۔

اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں آئی ہیں، اُن میں سے ایک روایت یہ ہے: لينقضن عرى الإسلام عروة عروة ـ فكلما انتقضت عروة، تشبث الناس بالتي تليها ـ وأولهن نقضا الحكم، وآخر هن الصلاة (مسند أحمد: 251/5) یعنی اسلام کے حلقے (زنجیر) ٹوٹتے رہیں گے، ایک کے بعد دوسری کڑی۔ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ باقی ماندہ کڑی سے جڑ جائیں گے۔ پہلی کڑی جو ٹوٹے گی، وہ الحكم ہے اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی، وہ الصلاة ہے۔

موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کے درمیان جو انقلابی رہنما پیدا ہوئے، انھوں نے دور زوال میں پیش آنے والی خرابی کی وہ تشخیص کی جس کو "دین اور سیاست کے درمیان جدائی" کہا جاتا ہے۔ اس غلط تشخیص کی بنا پر ساری امت بے نتیجہ طور پر سیاسی ہنگامہ آرائی میں مشغول ہوگئی۔ صحیح بات یہ ہے کہ دور زوال میں امت کے اندر جو خرابی پیدا ہوتی ہے، وہ دین اور سیاست کے درمیان جدائی نہیں ہے، بلکہ وہ دین اور مظاہر دین کے مابین جدائی ہے، یعنی دین کی اصل روح کا مفقود ہو جانا اور دین کی ظاہری شکلوں کا باقی رہنا۔ اس تفریق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت کے درمیان بظاہر دین کے نام پر طرح طرح کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، عملاً موجود نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بظاہر دین داری کے باوجود مسلمان دین کی اُن رحمتوں اور برکتوں سے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page