Al-Risala · December 2014 · page 18

خدا کی سنت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸

خدا کی سنت

تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق، خدا کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ خود واقعات کو ظہور میں لائے۔ خدا انسان کے لیے موقع (opportunity) فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اس موقع کو استعمال کر کے واقعے کو ظہور میں لائے۔ مثلاً خدا اپنے نظام کے تحت بارش برساتا ہے، وہ براہِ راست طور پر فصل نہیں اگاتا۔ یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ بارش سے پیدا شدہ موقع کو استعمال کرے اور زمین پر فصل اگائے۔ یہی معاملہ دعوت الی اللہ کا ہے۔ دعوت اہل ایمان پر فرض ہے، مگر ایسا نہیں ہوگا کہ اللہ اپنے فرشتوں کو زمین پر بھیجے اور فرشتے براہ راست طور پر دعوت کا کام انجام دیں۔ یہ اہل ایمان کی اپنی ذمے داری ہے کہ وہ مواقع (opportunity) کو پہچانیں اور ان کو استعمال کریں۔ مثال کے طور پر دعوت الی اللہ کا کام قدیم زمانے میں صرف مقامی طور پر ہوسکتا تھا، کیوں کہ اُس وقت عالمی ذرائع موجود نہ تھے، مگر موجودہ زمانے میں عالمی مواصلات (global communication) کے ذرائع وجود میں آگئے ہیں۔ یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ ہے کہ قدیم زمانے میں دعوت اگر مقامی اعتبار سے فرض ہوتی تھی تو اب دعوت اہل ایمان کے لیے ایک عالمی فریضہ بن چکی ہے۔

قدیم زمانے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا موجود نہیں تھا۔ عالمی جغرافیہ کا علم بھی لوگوں کو نہ تھا۔ آمدورفت کے ذرائع بھی نہایت محدود تھے۔ ان اسباب کی بنا پر قدیم زمانے میں مقامی دعوت سے بھی دعوت کا فریضہ ادا ہو جاتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں یہ چیز لازمی فریضہ بن چکی ہے کہ اہل ایمان جدید عالمی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حق کی دعوت کو عالمی سطح پر پہنچائیں۔ مزید یہ کہ دعوت صرف اعلان (announcement) کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے حکمت اور خیر خواہی کے تقاضوں کی رعایت بھی ضروری ہے۔ اس لیے موجودہ زمانے میں اہل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ دونوں کام انجام دیں۔ اہل عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچانا اور اہل عالم کے لیے کامل طور پر خیر خواہ بننا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page