دو ذمّے داری
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۹
دو ذمّے داری
آخرت کی نجات کے لیے کیا شرائط ہیں۔ اس کی دو شرطیں ہیں۔ ایک شرط وہ ہے جو مومن ہونے کی حیثیت سے آپ سے مطلوب ہے۔ دوسری شرط وہ ہے جو خاتم النبیین کا امتی ہونے کی حیثیت سے آپ کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ پہلی شرط کا خلاصہ اس دعا میں ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: نر جو رحمتك ونخشى عذابك (كنز العمال : 21948) یعنی ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات اس کے لیے ہے جو درجہ رجاء میں خدا کی رحمت کا حریص ہو، اور درجہ خشیت میں خدا کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہو۔ ایک شخص اگر اپنے بیٹے کے لیے بہتر مستقبل کا حریص ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ صرف زبان سے اس مفہوم کا جملہ بولتا ہے۔ اس کے لیے کچھ ظاہری کارروائی کر دیتا ہے۔ بلکہ جو شخص فی الواقع اپنے بیٹے کے لیے بہتر مستقبل چاہتا ہو وہ اس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا نشانہ بنا لے گا، وہ رات اور دن اسی کے لیے سوچے گا، وہ اپنے وقت اور اپنے مال اور اپنے تمام اثاثے کا بہترین استعمال یہ سمجھے گا کہ ان کو بیٹے کے مستقبل کی تعمیر میں لگا دے۔
اسی طرح جو شخص حقیقی معنوں میں خدا کی رحمت کا اور اس کی جنت کا حریص بن جائے، وہ اس کو کافی نہیں سمجھ سکتا کہ مخصوص اوقات میں اس مفہوم کے الفاظ اپنی زبان سے دہرادے۔ یا وقتی طور پر کچھ رسمی اعمال ادا کر دیا کرے۔ اس کے برعکس، اس کا معاملہ یہ ہوگا کہ خدا کی رحمت اور جنت کا حریص بننا اس کی پوری شخصیت کے اوپر چھا جائے گا۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات اسی رخ پر چلنے لگیں گے۔ وہ اپنے تمام اثاثے کو اس کام کے لیے وقف کر دے گا کہ وہ ان کے ذریعہ سے اپنے لئے جنت کے حصول کو یقینی بنا سکے۔
اس سلسلے میں دوسری شرط وہ ہے جو خاتم النبیین کا امتی ہونے کی حیثیت سے مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی، مگر اسی کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues