اس کا مظاہرہ کا
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۹
محروم ہوجاتا۔ تمہیں ہو جانا چاہیے تھا، روح کے اندر ایک اور دنیا بس گئی ہے، جو محروم ہو جاتے ہیں جو سچے اہل دین کے لیے مقدر کی لئی ہیں ۔
کسی امت کے اوپر زوال کا دور اچانک نہیں آتا ، بلکہ تدریجی (gradual) طور پر آتا ہے۔ تدریجی زوال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دھیرے دھیرے اُس سے مانوس ہو جاتے ہیں، وہ زوال کی حالت ہی کو درست حالت سمجھنے لگتے ہیں۔ اِسی زوال کو دوسرے الفاظ میں ، تدریجی تحویل (gradual shift) کہا جاسکتا ہے، یعنی ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جانا۔ مذکورہ حدیث میں "عُروة، عُروَةً" تبدیلی کا لفظ آیا ہے۔ اس حدیث میں دراصل تمثیل کی زبان میں اِس تدریجی تحویل کو بتایا گیا ہے۔ اِس تحویل کی کچھ صورتیں یہاں درج کی جاتی ہیں : آئیڈیالا جکل اسلام سے کلچرل اسلام کی طرف تدبر قرآن سے تلاوتِ قرآن کی طرف مخلصانہ دین داری سے ظاہر داری کی طرف امن سے تشدد کی طرف آخرت پسندی سے دنیا پرستی کی طرف حقیقت پسندی سے تصنع کی طرف اسپرٹ سے فارم کی طرف تخلیقیت سے تقلید کی طرف امت سے سیاست کی طرف جہاد سے قتال کی طرف خاموش عمل سے شور وغُل کی طرف سادگی سے تکلفات کی طرف دورِ زوال میں ان تبدیلیوں کی بنا پر دینِ خداوندی کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه (البيهقي في شعب الإيمان، رقم الحديث: 1908) یعنی دورِ زوال میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے گا۔ اس حالتِ زوال کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قشر (shell) کا باقی رہنا اور مغز (kernel) کا عملاً باقی نہ رہنا۔ دورِ زوال میں امت کی اصلاح کا صحیح طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے ۔ حکیمانہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے امت کو دوبارہ قشر کی حالت سے مغز کی ایسا ہے اور رہا ہے ۔ ... مانا درست اس روپ حالت کی طرف لے جانا۔
اس کا مظاہرہ کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues