Al-Risala · February 2014 · page 10

اسکالراورمفکرکا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۰

اسکالراورمفکرکا فرق

اسکالر(scholar) اور مفکر (thinker) کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ اسکالر کتابی علم کی بنیاد پر بنتا ہے اور مفکر تخلیقی علم کی بنیاد پر۔ اسکالر کی تشکیل کتب خانے میں ہوتی ہے اور مفکر کی تشکیل کا دائرہ پوری کائنات تک وسیع ہوتا ہے۔ اسکالر کی کامیابی یہ ہے کہ وہ پروفیشنل معیار (professional criterion) پر پورا اترے۔ اس کے برعکس، مفکر اپنا معیار خود بناتا ہے، وہ کسی پروفیشنل معیار کا پابند نہیں ہوتا۔ روایتی عالم کا نام اسکالر ہے اور تخلیقی اسکالر کا نام مفکر۔

اسکالر کو بہت جلد مروجہ اداروں میں کوئی سیٹ (seat) حاصل ہو جاتی ہے، لیکن مفکر کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ مفکر کسی خارجی مولڈ (mould) کا پابند نہیں ہوتا، اس لیے وہ کسی مروجہ ادارے کے لیے قابل قبول بھی نہیں ہوتا۔ اسکالر کی کامیابی یہ ہے کہ وہ مروجہ اداروں کی شرائط پر پورا اترے۔ مثلاً اس کو ایک سے زیادہ زبانوں پر قدرت حاصل ہو، وہ روایتی علم میں مہارت رکھتا ہو، اس کے اندر کامل موضوعیت (objectivity) پائی جاتی ہو، وہ انتہا پسندانہ سوچ سے مکمل طور پر خالی ہو۔

مفکر کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ تخلیقی تفکیر (creative thinking) کا حامل ہو۔ غیر مذہبی دائرے میں مفکر کی ایک مثال کارل مارکس (وفات: 1883ء) ہے۔ بہ اعتبار حقیقت، کارل مارکس کا فکر درست نہ تھا، لیکن کارل مارکس کو سیکولر حلقے میں مسلّم طور پر مفکر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ مسلم تاریخ میں، میرے علم کے مطابق، صرف ایک شخص ہے جس کو پورے معنوں میں، مفکر کہا جاسکتا ہے اور وہ عبدالرحمن بن خلدون (وفات: 1406ء) ہے، تا ہم عبد الرحمن بن خلدون کو اسلامی مفکر کا ٹائٹل نہیں دیا جا سکتا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ وہ ایک سوشل مفکر (social thinker) تھا۔ موجودہ زمانے میں بہت سے مسلمان ہیں جن کو اسلامی مفکر کہا جاتا ہے، لیکن میرے اندازے کے مطابق، اُن میں سے کوئی بھی شخص حقیقی معنوں میں اسلامی مفکر نہیں۔ ان میں سے ہر شخص کا کیس یہ ہے کہ وہ روایتی علم سے باخبر تھا، لیکن اس کو جدید دور کی بصیرت حاصل نہ تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page