شکایت کا نقصان
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱
وقت کا سرمایه رکہا وقت کسی انسان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت ہر انسان کو ملتا ہے، لیکن وقت کو پانے والا وہ ہے جس نے ملے ہوئے وقت کو استعمال کیا۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ ــ کھویا ہوا مال دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن کھویا ہوا وقت دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے وقت کو نہایت ہوشمندی کے ساتھ استعمال کرے :
جس طرح یہ بات غلط ہے کہ آدمی اپنے وقت کو ضائع کر دے، اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ آدمی اپنے وقت کو بے فائدہ کاموں میں استعمال کرے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وقت کو ایسے کام کے لئے استعمال کرے جو اس کو فائدہ پہنچانے والا ہو۔ وقت ایک خارجی چیز ہے۔ وقت کا تعین کلنڈر کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن وقت کا درست استعمال ایک داخلی صفت ہے۔
آدمی داخلی طور پر جتنا زیادہ تیار ہو اتنا ہی زیادہ وہ وقت کا مفید استعمال کر سکتا ہے۔ وقت کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ وقت ایک محدود لمحے کا نام ہے۔ محدود لمحے کے لیے آپ کو وقت حاصل ہوتا ہے۔ محدود لمحے کے ختم ہونے کے بعد وقت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک اردو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ے وقت کو بدلنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے، وقت کے معاملہ میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ وقت کے صحیح استعمال اور وقت کے غلط استعمال کے درمیان فرق کرے۔ وہ وقت کے غلط استعمال سے اُسی طرح بچے، جس طرح کوئی شخص حرام چیز سے بچتا ہے۔ وقت کے غلط استعمال کے بارے میں شدید حساسیت ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے وقت کو بھرپور طور پر استعمال کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues