شکایت کا نقصان
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۳
سوال و جواب سوال قرآن کی ایک آیت میں ہے کہ : اے پیغمبر، جو کچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچادو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا (5:67)۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ نبیوں کو ستایا گیا، حتی کہ بہت سے نبیوں کو قتل بھی کر دیا گیا۔ ایسی حالت میں، "والله يعصمك من الناس" کا مطلب کیا ہوگا ۔ (عبداللطیف، پاکستان) جواب قرآن کی اس آیت میں بلاشبہ پیغمبروں کے لیے اور داعیانِ حق کے لیے حفاظت کا وعدہ ہے، لیکن حفاظت کا یہ وعدہ ذات کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ مشن کے اعتبار سے ہے۔ اس وعدہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی پیغمبر کا جو مشن ہے وہ لازماً پورا ہو کر رہتا ہے۔ اللہ کی حفاظت اس بات کی گارنٹی ہوتی ہے کہ اس کو اللہ کی مدد حاصل ہو، اور اللہ کی مدد سے وہ تکمیل تک پہنچے۔ تکمیل سے مراد کسی عملی نظام کا قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ابلاغ اور انذار و تبشیر ہے۔
اس حفاظت کے باوجود دوسروں کے لیے یہ موقع باقی رہتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے پیغمبر یا داعی کو بظاہر کوئی نقصان پہنچائیں۔ مگر اس نقصان کا تعلق آزمایش کے قانون سے ہے، نہ کہ ”عصمت من الناس“کے قانون سے۔
سوال
آپ نے اپنی کتاب ”امن عالم‘ صفحہ 7 میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ ”ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب“۔ پھر آپ نے آگے بیان کیا ہے کہ علامہ ابن حجر نے اس سے استدلال کیا ہے کہ عقل قلب میں ہوتی ہے اور آپ نے کہا کہ مگر یہ بات درست نہیں ، اس حدیث میں قلب سے مراد مرکز تفکیر نہیں ہے بلکہ مرکز دوران خون ہے۔ قلب اور جسد
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues