شکایت کا نقصان
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴
کا ذکر اس حدیث میں بطور تمثیل ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (فیضان صدیقی، کیرالا) جواب قلب کا لفظ دل (heart) کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ قلب کا لفظ دماغ (mind) کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن فزیالوجی کی کتاب نہیں، قرآن تفکر اور تدبر کی کتاب ہے۔ اس لیے قرآن میں قلب کو ذہن کے معنی میں لیا جائے گا۔ قرآنی آیات میں قلب کو دل کے معنی میں لینا صحیح نہیں۔
قلب کا لفظ عربی زبان میں عام طور پر عقل یا ذہن کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ عربی زبان کی مشہور لغت لسان العرب میں قلب کے لفظ کے تحت یہ الفاظ درج ہیں: وقد يعبر بالقلب عن العقل - قال الفراء في قوله تعالى : إن في ذلك لذكرى لمن كان له قلب، أي عقل - قال الفراء : وجائز في العربية أن تقول : مالك قلب، وما قلب معك، تقول: ما عقلك معك، و أين ذهب قلبك؟ أي أين ذهب عقلك؟ وقال غيره لمن كان له قلب أي تفهم وتدبر (لسان العرب: 1/687)۔ ترجمہ: قلب کی تعبیر عقل سے بھی کی جاتی ہے۔ فراء نے کہا کہ قرآن کی آیت 'إن فی ذلك لذکرى لمن كان له قلب میں قلب سے مراد عقل ہے۔ فراء نے کہا کہ عربی میں یہ کہنا درست ہے کہ تمھارے اندر قلب نہیں، اور تمھا را قلب تمھارے ساتھ نہیں۔ اس کا مطلب ہے تمھارے اندر عقل نہیں۔ اور تمھا را قلب کہاں گیا؟ یعنی تمھاری عقل کہاں گئی۔ دوسرے اہل لغت نے بھی کہا ہے کہ قرآن کی آیت لمن كان لہ قلب میں قلب سے مراد سوچنا اور غور کرنا ہے۔
قرآن میں قلب کا لفظ جہاں جہاں آیا ہے، ہر جگہ وہ تدبر اور تفکر کے سیاق میں آیا ہے۔ اس لئے ان آیتوں میں قلب سے مراد ذہن یا عقل لیا جائے گا، نہ کہ دل بمعنی ہارٹ (heart)۔ دل کو سوچنے والا دل (thinking heart) کے معنی میں لینا، ایک قدیم توہماتی نظریہ تھا۔ اس کا قرآن سے یا حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات سے یہ تصور غلط ثابت ہو چکا ہے کہ دل سوچنے اور غور کرنے کا مرکز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues