Al-Risala · February 2014 · page 22

War and Peace, by Leo Tolstoy—1865

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲

70 آدمیوں کو ہلاک کر دیا۔ ایسا انتقامی نفسیات کی بنا پر ہوا۔ بدر کی لڑائی اہل ایمان کے لیے فتح تھی، لیکن فریق ثانی کے لیے وہ انتقام کے ہم معنی بن گئی:

Battle of Badr was victory for Muslims and revenge for the other party. اس تجربے سے معلوم ہوا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں۔ جنگ میں کامیابی صرف اُس وقت مسئلے کا حل بن سکتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی شکست (defeat) کو تسلیم کرے۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو نہیں مانتا، بلکہ اس کے اندر انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کو ختم کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔ اس بنا پر اللہ کی رہنمائی کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلے کے حل کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقے کو حکمت حدیبیہ کہہ سکتے ہیں۔ حدیبیہ کا معاہدہ ایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا، جو فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر انجام پایا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم معاہدے کو مکمل کرنے کے بعد حدیبیہ سے مدینہ کی طرف واپس لوٹےـ سفر کے دوران آپ پر سورہ الفتح نازل ہوئی۔ آپ کے اصحاب معاہدہ حدیبیہ پر خوش نہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورہ الفتح اپنے اصحاب کو سنائی تو صحابہ کو اس کے بارے میں تردد ہوا۔ حضرت عمر فاروق نے تعجب کے ساتھ کہا: أو فتح هو یا رسول الله؟ قال: نعم، والذي نفسي بيده إنه لفتح۔ (اے خدا کے رسول، کیا یہ فتح ہےـ آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک وہ فتح ہے)۔ ایک اور شخص نے کہا کہ: ما هذا بفتح (یہ تو کوئی فتح نہیں)۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بل هو أعظم الفتوح (وہ فتح ہے، بلکہ وہ تمام فتحوں سے زیادہ بڑی فتح ہے) تفسیر القرطبی: 16/260 معاہدہ حدیبیہ جیسے ایک معاہدے کو قرآن میں فتح مبین کیوں کہا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں فرمایا کہ یہ ایک عظیم فتح ہے، حالاں کہ آیت کے نزول کے وقت عملی طور پر فتح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تبصرہ سیاسی فتح کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ اس معنی میں تھا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page