Al-Risala · February 2014 · page 28

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸

(forbidden tree) کی حیثیت دے دی۔ خدا نے آدم سے کہا کہ تم کو اور تمھاری بیوی کو یہاں ہر قسم کی آزادی حاصل ہے، لیکن تم لوگ اس ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانا۔ آدم جس دنیا میں تھے، وہاں اُن کے ساتھ شیطان بھی کسی پہلو سے موجود تھا۔ شیطان نے آدم اور ان کی بیوی دونوں کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ یہ شجرۂ ممنوعہ دراصل شجرۂ خُلد، یاہمیشگی کا درخت (tree of eternity) ہے۔ ابھی تم لوگوں کو صرف زندگی ملی ہے، ابھی تم کو ابدیت حاصل نہیں ہوئی۔ اگر تم اس درخت کا پھل کھا لو تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ تم کو زندگی کے ساتھ ابدیت بھی مل جائے گی۔ اس کے بعد تم باغوں کی اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہ سکتے ہو۔

آدم اور حوا دونوں اس بہکاوے میں آگئے۔ انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا۔ قرآن کے مطابق، اُن کا یہ عمل خدا کے حکم کی خلاف ورزی (20:121) تھا۔ چناں چہ پھل کھاتے ہی اچانک ایسا ہوا کہ دونوں خدا کی رحمت سے محروم ہو گئے۔ خدا کی رحمت کا لباس اُن سے اُتر گیا۔ وہ اپنے آپ کو بے بسی کی حالت میں پانے لگے۔ انسان کی تاریخ میں یہ گم راہی کا سب سے پہلا واقعہ تھا۔ گم راہی کیا ہے، گم راہی دراصل حق کے راستے سے انحراف (deviation) کا نام ہے۔ خدا نے انسان کو پیدا کرکے اس کے لیے ایک درست راستہ (صراطِ مستقیم) مقرر کر دیا۔ اس راستے پر چلنے کا نام حق کا اتباع ہے، اور اس راستے سے ہٹنے کا نام حق سے انحراف ہے۔ انسان کی پوری تاریخ دراصل اِسی اتباع اور انحراف کی مختلف شکلوں کا دوسرا نام ہے۔

غلط تسمیہ

شجرۂ ممنوعہ (forbidden tree) کا مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ حق کے راستے سے ہٹنے کا سبب کیا ہوتا ہے۔ اس کا سبب ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے غلط تسمیہ (wrong nomenclature)۔ آدمی، شیطان کے وسوسے کا شکار ہو کر ہمیشہ یہ کرتا رہتا ہے کہ جو چیز خدا کی مقرر صراطِ مستقیم کے خلاف ہے، اس کو وہ ایک دل فریب نام دے کر اپنے لیے جائز کر لیتا ہے۔

اِسی حقیقت کو پیغمبر یوسف نے اپنے جیل کے مشرک ساتھیوں سے ایک دعوتی گفتگو کے دوران

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page