Al-Risala · February 2014 · page 29

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹

اس طرح بیان کیا تھا: ”تم خدا کے سوا جن کو پوجتے ہو، وہ صرف نام ہیں، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے اُس کے لیے کوئی دلیل نہیں اتاری‘ (12:40)۔ گم راہی کا سارا معاملہ اسی غلط تسمیہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں شراب کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ليستحلّنّ طائفة من أمتي الخمر باسم يسمونها إياه (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 318) یعنی میری امت کا ایک گروہ ضرور شراب کو اپنے لیے حلال کر لے گا۔ وہ شراب کا ایک اور نام رکھیں گے اور اس طرح وہ اس کو جائز کر لیں گے۔

اصل یہ ہے کہ انسان کو جب اس کے پیدا کرنے والے نے پیدا کیا تو اُسی وقت اس کی فطرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ اچھے اور بُرے کی تمیز رکھ دی۔ ہر پیدا ہونے والا انسان پیدائشی طور پر اپنے اندر یہ گہرا شعور لیے ہوئے ہوتا ہے کہ فلاں چیز اچھی ہے اور فلاں چیز بُری ، فلاں چیز صحیح ہے اور فلاں چیز غلط۔ آدمی اپنے اندر چھپے ہوئے اس احساسِ فطرت کا انکار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان بُرائی کے نام پر بُرائی نہیں کرتا۔ جب بھی کوئی انسان بُرائی کرنا چاہتا ہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ پہلے وہ اُس بُرائی کا نام بدلتا ہے، وہ اُس بُرائی کو بطورِ خود ایک اچھا نام دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اس فرضی اطمینان میں مبتلا کر لیتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں، وہ کوئی بُرا کام نہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، غلط تسمیہ کے اس طریقے کا آغاز انسانی تاریخ میں سب سے پہلے شیطان نے اس طرح کیا کہ اس نے شجرۂ ممنوعہ کا نام شجرۂ خُلد رکھ دیا اور پھر آدم اور حوا کو راضی کیا کہ وہ اس درخت کا پھل کھا لیں ۔ تاریخ میں تقریباً تمام بُرائیاں اسی غلط تسمیہ کے تحت اختیار کی گئی ہیں۔ موجودہ زمانے میں جس چیز کو لو اکثر (love affair) کہا جاتا ہے، وہ کیا ہے ۔ وہ دراصل سیکس افر (sex affair) کا خوب صورت نام ہے۔

غلط تسمیہ کی مثالیں موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہو چکی ہیں۔ جدید میڈیا میں ہر روز اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا (یکم نومبر 2007) کے ضمیمہ دہلی ٹائمس کے صفحہ اول پر ایک رنگین تصویر ہے۔ اس تصویر میں ایک لڑکی برائے نام کپڑے پہنے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page