Al-Risala · February 2014 · page 30

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۰

کھڑی ہے۔ اس با تصویر خبر کے اوپر اخبار نے یہ عنوان قائم کیا ہے— سارہ ایک پر اعتماد لڑکی ہے: Sarah is a Confident Girl. ساری تاریخ میں انسان اسی غلط تسمیہ کا سہارا لے کر برائیوں کا ارتکاب کرتا رہا ہے۔ تاریخ میں جو برائیاں نظر آتی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی غلط تسمیہ کی مثالیں ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں ہم کچھ مثالوں کا ذکر کریں گے۔ غلط تسمیہ کی مثالیں خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو اُس نے یہ کیا کہ ایک طرف، انسان کی فطرت میں حق اور ناحق کا احساس پیدائشی طور پر رکھ دیا۔ یہ احساس انسان کے لاشعور میں پیوست تھا۔ اب ضرورت یہ تھی کہ اس لاشعور کو شعور کے خانے میں لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے بطور رہنما یا مددگار، خدا نے پیغمبر بھیجنے شروع کیے۔ یہ پیغمبر ہر زمانے میں اور ہر گروہ میں آئے۔ ان کو خدا نے وحی کے ذریعے ہدایت پہنچائی، اور ان کے ذمے یہ کام سپر د ہوا کہ وہ تعلیم اور تلقین کے ذریعے انسان کے ذہن کو بیدار کریں۔ وہ انسان کو اس قابل بنائیں کہ جو کچھ اس کے لاشعور میں ہے، اس کو وہ شعور کے درجے میں دریافت کرلے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

دنیا کی زندگی چوں کہ امتحان کی زندگی ہے، اس لیے یہاں دو قسم کی طاقتیں مسلسل طور پر کام کرتی رہتی ہیں۔ ایک طرف، پیغمبر جو انسان کو سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، اور دوسری طرف شیطان ہے جو انسان کو بہکا کر اس کو گمراہی کے راستے پر ڈالنا چاہتا ہے۔ شیطان کا طریقہ اب بھی وہی ہے جو اُس نے اس سے پہلے آدم اور حوا کے ساتھ اختیار کیا تھا، یعنی غلط تسمیہ کے ذریعے یہ کوشش کرنا کہ انسان بُرائی کو بھلائی کے روپ میں دیکھنے لگے۔ شیطان کے اس عمل کو قرآن میں تزیین (fair-seeming) کہا گیا ہے (15:39)۔ پیغمبروں نے ہمیشہ انسان کو یہ بتایا کہ خدا ایک ہے۔ وہی اکیلا خالق اور مالک ہے۔ تم لوگ اُس کو مانو اور اُسی کی عبادت کرو۔ خدا کے رسولوں کا یہ پیغام، انسان کی فطرت کے عین مطابق تھا۔ انسان کی اپنی فطرت بھی رسولوں کے اس پیغام کی مکمل تائید کر رہی تھی۔ اس بنا پر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page