غلط تسمیہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱
انسان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کر دے۔ یہاں شیطان کی ترغیب کے تحت، انسان نے انحراف (deviation) کا طریقہ اختیار کیا۔
یہ انحراف زیادہ تر غلط تسمیہ کے اصول پر مبنی تھا۔ چناں چہ انسان نے کہا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں، لیکن خدا نے اپنے مختلف شرکا (partners) مقرر کر دیے ہیں۔ اب ہمارا تعلق براہ راست خدا سے نہیں، بلکہ انھیں شرکا سے ہے۔ ہم شرکا کے ذریعے خدا تک پہنچ سکتے ہیں۔ جن کو وہ شرکا کہہ رہے تھے، وہ دراصل ان کے اپنے مفروضہ نام تھے، لیکن ان مفروضہ ناموں کو حقیقی قرار دینے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ ان کو شریک خدا (partners of God) کا نام دے دیا۔ قدیم زمانے سے لے کر اب تک تمام مشرکین نے یہی کیا ہے کہ انھوں نے بطور خود کچھ مفروضہ نام گھڑے۔ مثلاً روشنی کا خدا، بارش کا خدا، زندگی کا خدا، موت کا خدا، طاقت کا خدا، دولت کا خدا، وغیرہ۔ اس طرح کے مفروضہ خداؤں کا کوئی وجود نہیں، لیکن اس کو موجود بتانے کے لیے بطور خود اس کا ایک نام وضع کیا اور اس نام کے تحت یہ عقیدہ بنا لیا کہ خدا کا ایک پارٹنر وہ ہے جو بارش، وغیرہ کا انتظام کرتا ہے۔ شرک دراصل خدا کو مانتے ہوئے، اس کے لیے شرکا (partner) بنانے کا نام ہے۔ اسی کو اصطلاح میں تعددِ آلہہ کا نظریہ (polytheism) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے پہلے دور میں شرک کی یہی قسم ساری دنیا میں رائج ہوگئی۔ اس کے بعد اس کا دوسرا دور آیا۔ اس دوسرے دور کو فلسفیوں کا دور کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور ابتدائے یونانی فلسفیوں کے درمیان شروع ہوا، اور اس کے بعد شرک کے ایک فلسفے کے طور پر وہ مختلف مذاہب کے درمیان پھیل گیا۔ اس کو ایک لفظ میں فلسفیانہ شرک کہا جا سکتا ہے۔ یہ فلسفیانہ شرک کیا ہے ۔ یہ وہی چیز ہے جس کو اصطلاحی طور پر وحدتِ وجود (monism) کہا جاتا ہے ۔ وحدتِ وجود، خدا کو مانتے ہوئے عملاً اس کے انکار کے ہم معنی ہے ۔ یہ ذہن بھی شیطان نے غلط تسمیہ کی تزئین کے ذریعے انسان کے اندر پیدا کیا۔ وحدتِ وجود کے مشرکانہ فلسفے کی اگر وضاحت کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ ـــ ہم خدا کے وجود کو مانتے ہیں، ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔ ہم نے صرف یہ کیا ہے کہ اس سے پہلے، خدا کو ایک محدود وجود کی شکل دے دی گئی تھی،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues