Al-Risala · February 2014 · page 32

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۲

ہم نے خدا کے وجود کو ایک وسیعی مفہوم دے دیا ہے :

According to the monotheistic concept, God was believed to be a localized person. The monistic theory has made God an all pervading spirit. وحدتِ وجود کا تصور اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے انکار کے ہم معنی ہے، لیکن اس کے اوپر خوب صورت الفاظ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ خدا کو ماننا، محض ایک فلسفیانہ تصور کو ماننا نہیں ہے، بلکہ ایک زندہ اور قادر مطلق خدا کو ماننا ہے، یعنی ایک ایسا خدا جس کا ایک حقیقی وجود ہے، جو دیکھتا ہی اور سنتا ہے، جو تخلیق کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ محاسب اور مُجازی ہے۔ وہ روزِ حساب (day of judgement) کا مالک ہے، وغیرہ۔

اس حقیقت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ نظریہ توحید کے مطابق، خدا نہ صرف ایک وجود ہے، بلکہ اسی کے ساتھ وہ ہر قسم کی صفاتِ کمال کا مالک بھی ہے۔ لیکن وحدتِ وجود کے فلسفے میں یہ ہوتا ہے کہ خدا صرف ایک مجرد تصور (abstract concept) بن جاتا ہے۔ ایک ایسا مجرد تصور جو تمام صفاتِ خداوندی سے خالی ہے۔ وحدتِ وجود کے تصور میں خدا ایسا ہی ہو جاتا ہے، جیسے کہ کا سمک ریز (cosmic rays) ، یا زمین کی قوتِ کشش۔ ایسے خدا کی عملی طور پر کوئی معنویت نہیں۔ اُس کا ہونا بھی ویسا ہی ہے، جیسا کہ اس کا نہ ہونا۔

عقیدہ خدا کے معاملے میں تیسری خوش نما گمراہی وہ ہے جس کو حیاتیاتی ارتقا (organic evolution) کہا جاتا ہے۔ ارتقا کا نظریہ اگرچہ بہت پہلے سے فلسفیوں کے یہاں موجود تھا، لیکن اس نظریے کو پہلی بار جس نے ایک باقاعدہ ڈسپلن کی صورت میں پیش کیا، وہ چارلس ڈارون (وفات: 1802ء) ہے۔ اس سلسلے میں چارلس ڈارون نے دو کتابیں لکھیں، جن کے نام یہ ہیں: On the Origin of Species (1859)

The Descent of Man (1871)

ڈارون نے اپنا نظریہ ارتقا صرف حیاتیاتی معنوں میں پیش کیا تھا، یعنی حیوانات اور انسان کس طرح اُس کے خیال کے مطابق، ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آئے۔ لیکن بعد کو دوسرے علما نے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page