غلط تسمیہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۳
اس نظریے کو توسیع دی اور ارتقائی طریق مطالعہ، دوسرے تمام شعبوں میں بھی استعمال کیا جانے لگا۔ حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ، خالص سائنسی اعتبار سے، اب تک ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ اعلیٰ سائنسی ذہن اس کو صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) مانتے ہیں۔ تاہم اس وقت ہمیں نظریہ ارتقا کے اس خالص علمی پہلو کے بارے میں کوئی بحث نہیں کرنا ہے۔ اس وقت ہم نظریہ ارتقا کے صرف اُس پہلو کو لینا چاہتے ہیں، جس کا تعلق الہیات کے موضوع سے ہے۔
اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ نظریہ ارتقا، شرک کی تیسری قسم ہے جس کو سائنسی شرک کہا جاسکتا ہے۔ اس نظریے میں خدا کا انکار کیے بغیر، خدا کو عملی اعتبار سے غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ بظاہر ڈارون نے اپنی کتاب (The Origin of Species) میں خدا کے وجود کا اقرار کیا ہے، لیکن یہ اقرار صرف علامتی معنی میں ہے، ورنہ ڈارون کے بتائے ہوئے حیاتیاتی ڈرامے میں خدا کا کوئی رول نہیں۔ چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) میں زندگی کو طویل ارتقائی عمل کا نتیجہ بتایا ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔ اس کے برعکس، اس کی اس کتاب میں ایک سے زیادہ مرتبہ خدا (God) کا حوالہ آیا ہے۔ اپنی اس کتاب کا خاتمہ اُس نے ان سطروں پر کیا ہے— خالق نے ابتدا میں زندگی کی ایک، یا کئی شکلیں پیدا کیں اور پھر اُس سے بہت سی انواع حیات وجود میں آگئیں۔ تخلیق کا یہ تصور کتنا عظیم ہے: There is grandeur in this view of life, with its several powers, having been originally breathed by the Creator into a few forms or into one. ارتقا کے نظریے میں دوبارہ یہ کیا گیا ہے کہ خدا کو مان کر خدا کو ایسی حیثیت دے دی گئی ہے، جس میں خدا عملی اعتبار سے کامل طور پر غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، حیات انسانی اور تاریخ تہذیب میں خدا کا حصہ صرف اتنا ہے کہ اُس نے آغاز میں کسی نہ کسی طور پر ایک ناقابل مشاہدہ جراثومہ حیات (amoeba) کو پیدا کیا۔ اس کے بعد انسان کے سفر حیات یا اس کی تاریخ پر خدا کا کوئی کنٹرول نہیں۔ اس تاریخ کے خاتمے پر بھی خدا کا کوئی رول نہیں ہے۔ کیوں کہ اس تصور میں خدا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues