Al-Risala · February 2014 · page 34

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۴

نہ روز جزا کا مالک ہے، اور نہ وہ انسانوں کو جزا اور سزا دینے والا ہے۔ واضح بات ہے کہ ایسے خدا کو ماننا بھی ویسا ہی ہے، جیسا کہ اس کو نہ ماننا۔ عملی اعتبار سے دونوں تصورات میں کوئی فرق نہیں۔ بعض حضرات مثلاً ایک الجزائری عالم نے اپنی عربی کتاب "قصة الإيمان بين الفلسفة والعلم والقرآن" میں نظریہ ارتقا کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ اسی طرح، پاکستان کے ایک اسکالر نے اپنی کتاب قرآن اور علم جدید میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ڈارون کے نظریۂ ارتقا اور زندگی کے بارے میں قرآن کے بیان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ میں اس نقطہ نظر کو علمی اعتبار سے درست نہیں سمجھتا۔ جہاں تک الہیاتی پہلو کا تعلق ہے، یہ نظریہ بلاشبہ خدا کے انکار کے ہم معنی ہے، اور ڈارون کے نظریے کی اشاعت کے بعد مغربی دنیا میں عملاً یہی پیش آیا۔

عقیدہ توحید کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ خدا کے تصور کو کسی نہ کسی طور پر ایک بعید مفروضے کی حیثیت سے مان لیا جائے ۔ اس قسم کے تمام تصورات میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی وجود کی بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ حقیقی وجود کی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا وہی قابلِ اعتبار ہے جس میں خدا کو تصور توحید کے مطابق مانا گیا ہو۔ اس کے سوا کسی اور حیثیت سے خدا کو ماننا عملاً خدا کے انکار کے ہم معنیٰ ہے۔ کیوں کہ قدرتِ کاملہ کے بغیر خدا کے وجود کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ سائنس کے ظہور کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور آیا، جس کو میٹریل ازم یا مادی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں بھی کچھ انتہا پسند ملحدوں کو چھوڑ کر، خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا گیا۔ اس دور میں بھی یہی ہوا کہ خدا کو علامتی حیثیت دیتے ہوئے الہیات سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات کی ایسی خوب صورت توجیہیں کی گئیں، جس کے بعد خدا کا وجود محض ایک مفروضہ بن کر رہ جائے ، حقیقی اعتبار سے انسانی زندگی میں خدا کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔

مثال کے طور پر موجود زمانے میں جو تحقیقات کی گئیں، ان کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ سیارہ زمین کے اوپر استثنائی طور پر ایسے موافق زندگی حالات موجود ہیں جو پوری کائنات میں کسی بھی گره پر موجود نہیں ۔ اس کو آج کل کی زبان میں لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page