آرین مذاہب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۲
ہر آدمی اپنے عمل کے مطابق، دوبارہ جنم لے کر اسی موجودہ دنیا میں آتا ہے۔ پچھلے جنم میں اگر اُس نے اچھا کام کیا تھا تو اگلے جنم میں وہ اچھے انسان کے روپ میں پیدا ہوتا ہے، اور اگر اس نے پچھلے جنم بُرا کیا تھا تو اگلے جنم میں وہ برے انسان ، یا حیوان کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ پیدائش اور دوبارہ پیدائش (rebirth) کا یہ سلسلہ 82 لاکھ سال تک جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو ’نِروان‘ مل جاتا ہے، یعنی اس کے وجود کا قطرہ حقیقت کے سمندر میں جا کر مل جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ پراسس (process) اسباب و علل (cause and effect) کے اصول پر قائم ہے۔ اسباب وعلل کے مخفی قانون کے تحت، یہ پراسس مسلسل چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ نظریہ بھی آدمی کو عمل کے محرک سے محروم کر دیتا ہے۔ یہ نظریہ آدمی کو ایک تخیلاتی فلسفہ (imaginative philosophy) کے سوا اور کچھ نہیں دیتا۔ اس نظریے میں نہ اچھا عمل کرنے کا کوئی محرک ہے اور نہ بُرے عمل سے بچنے کا کوئی خوف۔ انسانی زندگی میں اس نظریے کا کوئی بھی تعمیری رول نہیں۔
یہ نظریہ بتاتا ہے کہ آدمی اپنے اچھے، یا بُرے عمل کا انجام پانے کے لیے اس موجودہ دنیا میں بار بار واپس آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ زمین کے اوپر زندہ حالت میں موجود ہیں، وہ سب کے سب اس سے پہلے پیدا ہو کر اس دنیا میں آئے تھے۔ موجودہ انسانی آبادی نئے انسانوں کی آبادی نہیں ہے، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو پیدا ہو کر اس سے پہلے اس دنیا میں آ چکے تھے، اور اب وہ دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں آئے ہیں۔
یہ تصور ایک خیالی نظریہ (imaginative theory) پر قائم ہے، اس کی پشت پر کوئی بھی علمی، یا عقلی دلیل موجود نہیں۔ اس تصور کے مطابق، اسباب وعلل کا جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ اُسی انسان کے اوپر پیش آتا ہے جو بار بار پیدا ہو رہا ہے اور بار بار مر رہا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ مرنے والا کوئی اور شخص ہو اور اس کے بعد پیدا ہونے والا کوئی دوسرا شخص۔ اگر دونوں شخصیتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے تو کرم کا نظریہ ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues