آرین مذاہب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۳
حیاتیاتی سائنس (biological science) کی تحقیقات کے مطابق، یادداشت، یا حافظہ (memory) انسان کی شخصیت کا لازمی جزو ہے۔ سگمنڈ فرائڈ اور دوسرے علماء نفسیات نے ثابت کیا ہے کہ حافظہ انسانی شخصیت کا ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ انسانی جسم کے سیل (cells) مسلسل ٹوٹتے رہتے ہیں۔ پرانا سیل ٹوٹتا ہے اور اس کی جگہ نیا سیل لے لیتا ہے۔ سیل کی تبدیلی (replacement) کا یہ عمل مسلسل ساری عمر جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ کچھ سالوں میں جسم کے تمام سیل بدل جاتے ہیں، اور نئے سیل کے ساتھ نیا جسم وجود میں آ جاتا ہے۔
جسم کی اس تبدیلی کے باوجود انسان کا حافظہ بدستور اپنی اصل حالت میں باقی رہتا ہے۔ حافظے کے اندر ادنیٰ درجے میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ جس طرح موت سے پہلے کی جسمانی تبدیلی سے، انسان کا حافظہ اس کی شخصیت سے جدا نہیں ہوتا، اسی طرح موت کے بعد کی جسمانی تبدیلی سے بھی آدمی کے حافظے کو اس کی شخصیت سے جدا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے، جس کا انکار کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ مفروضہ (کرما تھیوری) کے مطابق، جو انسان موت کے بعد بار بار پیدا ہو رہے ہیں، وہ سب کے سب اپنے سابقہ حافظے کے بغیر پیدا ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی عورت یا مرد کو اپنے ماضی کی زندگی یاد نہیں۔ حالاں کہ حیاتیاتی قانون کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس قانون کے مطابق، ہر ایک کے حافظے میں اس کی پچھلی زندگی مکمل طور پر محفوظ ہونا چاہیے، جو کہ بطور واقعہ موجود نہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے نے جس طرح بہت سے دوسرے مفروضات کو بے بنیاد ثابت کیا ہے، اسی طرح مذکورہ مفروضہ بھی اب ایک بے بنیاد مفروضہ ثابت ہو چکا ہے۔ حیاتیاتی سائنس کا جدید مطالعہ اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب ٹینپیا کے دوران اپنا دھیان لگایا تھا تو اس میں انھوں نے اپنی باطنی نظر سے اپنے تمام پچھلے جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دھیان کے دوران خود اپنے فرضی تصورات کو محسوس کیا تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues