Al-Risala · March 2015 · page 8

فقہی مسائل میں اختلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۸

فقہی مسائل میں اختلاف

فقہی مسائل میں اختلاف کا معاملہ زیادہ تر عبادت کے طریقوں میں اختلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: صلوا كما رأيتموني أصلي (صحیح البخاری: 631) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: خذوا عني مناسككم (سنن الکبری للبیہقی: 9524) یعنی مناسک میں میری پیروی کرو۔

اس طرح کی احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی غیر اختلافی ماڈل تھا۔ لیکن رسول اللہ کے بعد صحابہ عملی اعتبار سے قابلِ تقلید نمونہ بن گئے۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ مختلف بیرونی علاقوں میں پھیل گئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ صحابہ کے عبادتی طریقوں میں کامل یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ مثلا نماز میں قرأت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا یا نہ پڑھنا، امام کے پیچھے مقتدی کا قرأت فاتحہ کرنا یا نہ کرنا، نماز میں آمین بالسّر اور آمین بالجهر کا اختلاف، وغیرہ۔ صحابہ کے درمیان اس قسم کا اختلاف (صحیح تر لفظ میں فرق) پہلے بھی موجود تھا، مگر پہلے اس فرق کو بحث کا موضوع نہیں بنایا جاتا تھا۔ بعد کے زمانے میں جب کہ مسلم معاشرے میں نو مسلموں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اس فرق پر سوال کیا جانے لگا۔ اب اس اختلاف کو موضوع بنا کر یہ سوال کیا جانے لگا کہ ان میں سے صحیح تر ماڈل کون سا ہے۔ یہ نو مسلم جن مذاہب سے نکل کر آئے تھے، وہاں انھوں نے دیکھا تھا کہ اس قسم کے فرق کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس قسم کے فرق کی بنیاد پر دوسرے مذاہب میں الگ الگ فرقے بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اس قدیم ذہن کو انھوں نے اسلام پر بھی منطبق (apply) کر دیا۔ اس ذہن کے تحت وہ اس وقت کے مسلم علما سے سوالات کرنے لگے۔ یہی وہ ظاہر ہے جس نے اسلام میں مذہبی فرقہ بندی کے دور کا آغاز کر دیا۔

اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیشگی ہدایت کے طور پر موجود تھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم (مشكاة المصابيح : 6018)،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page