فقہی مسائل میں اختلاف
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۹
یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہوگے۔ اس حدیث کے مطابق صحابہ کے درمیان عبادت کے طریقوں میں اختلاف تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، یعنی ہر طریقہ جو کسی صحابی سے ثابت ہو وہ یکساں طور پر درست ہے۔ عقلی طور پر تنوع کا یہ طریقہ قابل فہم تھا، کیوں کہ صحابہ کا اختلاف یا فرق صرف جزئیات (non-basics) میں تھا، وہ کلیات (basics) میں نہ تھا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فطری قانون کے مطابق جزئیات میں ہمیشہ فرق پایا جاتا ہے، جزئیات میں یکسانیت (uniformity) کا حصول ممکن نہیں۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر یہ اختلاف مسلکی شدت کا سبب بن گیا۔ جب کہ یہ اختلاف خود صحابہ میں موجود تھا، مگر صحابہ کے درمیان ان اختلافات کی بنیاد پر کوئی مسلکی تشدد نہیں پیدا ہوا۔ اس کا سبب واضح طور پر یہ تھا کہ صحابہ مختلف طریقوں پر عبادت کرتے تھے لیکن ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں طریقہ افضل ہے، اور فلاں طریقہ غیر افضل۔ وہ مختلف طریقوں پر اس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہر طریقہ یکساں طور پر درست ہو۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ انہی اختلافات کو لے کر امت مختلف فرقوں، بلکہ متخارب گروہوں میں بٹ گئی۔ جب کہ اس قسم کا تحزب شریعت میں سخت نامحمود (30:32) ہے۔ اس معاملے میں اصل غلطی دورِ اول کے علمائے فقہ کی ہے، جن کو ائمہ مجتہدین کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس اختلاف کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ ان اختلافات کو بطور خود وہ درجہ دے دیا، جو کہ شریعت میں ان کا درجہ نہ تھا، اور نہ کسی صحابی نے ان اختلافات کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ دورِ اول کے ان فقہاء نے یہ کیا کہ انھوں نے ترجیح (preference) کے نام سے بطور خود ایک اصول وضع کیا۔ انھوں نے لمبی بحثیں کر کے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اختلافات کو بیان کیا، اور پھر ایک مسلک کو لے کر کہا کہ ھذا أحوط (یہ زیادہ محتاط طریقہ ہے)، ھذا أفضل (یہ زیادہ افضل طریقہ ہے)۔ انھوں نے بطور خود ایک مسلک کو اولیٰ اور دوسرے مسلک کو غیر اولیٰ قرار دیا۔ یہ بلاشبہ علمائے فقہ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ یہی وہ اجتہادی غلطی ہے جس نے امت میں فقہی تشدد کا آغاز کر دیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues