Al-Risala · January 2015 · page 11

جنت کی زندگی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۱

میں اہل جنت کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنے تفکیری عمل کو لامحدود طور پر جاری کر سکے۔ موجودہ دنیا میں ان کا تفکیری عمل زمان ومکان کے اندر (within space and time) جاری ہوتا ہے۔ جنت کی لامحدود دنیا میں ان کے تفکیری عمل کا زمان ومکان کے ما وراء (beyond space and time) جاری ہونا ممکن ہو جائے گا۔ موجودہ محدود دنیا میں یہ فکری نعمت ممکن نہیں، مگر جنت کی لامحدود دنیا میں یہ انوکھی فکری نعمت اہل جنت کے لئے آخری حد تک قابل حصول ہو جائے گی۔ اسی طرح انسان کی ایک اور فکری طلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے درمیان رہے، جن کی ویولینتھ (wavelength) ایک ہو، جواپنے ذوق اور اپنی عادات کے لحاظ سے اعلیٰ معیار کے حامل ہوں۔ ایسے اعلیٰ افراد پر مشتمل معیاری سماج (ideal society) موجودہ دنیا میں کبھی بن نہیں سکتا۔ موجودہ دنیا میں اعلیٰ افراد کا حصول ممکن ہے، لیکن اجتماعی سطح پر اعلیٰ سماج کا حصول ممکن نہیں۔ جنت، اہل حق کی اسی طلب کا جواب ہے۔ جنت میں یہ ہوگا کہ اللہ اپنی قدرت سے پوری تاریخ کے منتخب اعلیٰ افراد کو یکجا کر دے گا۔ اس بنا پر جنت حسن رفاقت کا سماج (النساء: 69) بن جائے گا۔ اس طرح جنت میں اہل جنت کی یہ طلب پوری ہو جائے گی۔ یہ منتخب افراد جنت میں اپنی پسند کا وہ اجتماعی ماحول اعلیٰ صورت میں پالیں گے، جو ان کا اجتماعی مطلوب تھا، لیکن دنیا کی زندگی میں اس کو پانا ان کے لئے ممکن نہ ہوسکا۔ آخرت میں اللہ کی خصوصی عنایت سے یہ ناممکن چیز ان کے لئے ممکن ہو جائے گی۔ جنت کی اسی نادر صفت کی بنا پر، جنت کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (32:17) یعنی کوئی نہیں جانتا کہ ان لوگوں کے لئے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ اسی طرح ایک حدیث قدسی میں جنت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: أعددت لعبادي الصالحين: مالا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر ( صحیح البخاری: 3244) یعنی میں نے اپنے صالح بندوں کے لئے ایسی چیز تیار کر رکھی ہے، جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، اور نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page