Al-Risala · March 2015 · page 10

فقہی مسائل میں اختلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۱۰

یہ انسان کی نفسیات ہے کہ اس کے لئے جب انتخاب افضل اور غیر افضل کے درمیان ہو تو وہ ہمیشہ افضل کا انتخاب کرے گا۔ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کے دلائل دے گا۔ بعد کے زمانے میں انسان کی یہی نفسیات بروئے کار آئی، اور فقہی مسلک میں اختلاف کے نتیجے میں نفرت اور تشدد حتیٰ کہ جنگ تک کو جائز کر لیا گیا۔

اس معاملے میں دورِ اول کے علما کو بری الذمہ قرار دینے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مسلک کو قابلِ ترجیح قرار دینے کے باوجود وہ مسلک کے بارے میں متشدد نہ تھے۔ مثلاً حنفی اور شافعی فقہاءءنماز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ مالکی فقہا اس کے قائل نہ تھے، مگر دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کی۔ اسی طرح امام شافعی فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ امام ابو حنیفہ اس کے قائل نہ تھے، مگر جب امام شافعی امام ابو حنیفہ کے مقبرہ کے پاس گئے اور وہاں فجر کی نماز ادا کی تو انھوں نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، وغیرہ۔ مگر اس طرح کا عمل صرف انفرادی اخلاق کو ثابت کرتا ہے، اور شرعی اختلاف کے حل کے لئے شرعی اصول درکار ہے، نہ کہ انفرادی اخلاق۔ دینی امور میں جب کسی ایک طریقہ کو دوسرے طریقے کے مقابلے میں افضل بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ افضل طریقہ میں زیادہ ثواب ہے، اور غیر افضل طریقہ میں کم ثواب ہے۔ ایک فقہی عالم اگر افضلیت اور غیر فضلیت کی زبان میں اس طرح کا مسئلہ بتائے، اور اس کے بعد مخالف مسئلہ بتانے والے عالم کے پیچھے ایک بار نماز پڑھ لے تو اس قسم کے عمل سے فقہی تشدد ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کا یہ عمل لوگوں کی نظر میں ذاتی نوعیت کا ایک اخلاقی برتاؤ یا حسن معاشرت قرار پائے گا، نہ کہ کوئی شرعی مسئلہ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حسن معاشرت اور دینی افضلیت کے درمیان انتخاب (choice) ہو تو آدمی ہمیشہ اس طریقے کو لے گا جس کو افضل بتایا گیا ہے، اور غیر افضل پر عمل کرنے والے کو کم تر سمجھے گا۔ اس طرح کے شرعی معاملے میں حسن معاشرت کبھی فیصلے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ مزاج یقیناً بڑھتے بڑھتے آخر کار فقہی تشدد اور گروہی تحزب کی صورت اختیار کرلے گا۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ امت کے اندر بعد کے زمانے میں جو فقہی تشدد اور مسلکی تحزب پیدا ہوا،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page