دانش مند کون
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۲
دانش مند کون
قرآن کی سورہ النحل میں شہد کی مکھی (bee) کی مثال دی گئی ہے کہ وہ کس طرح سفر کر کے آتی ہے، اور پھول سے اس کا رس (nectar) لے کر واپس چلی جاتی ہے۔ اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ (16:69) یعنی بے شک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔
قرآن کی اس آیت میں نشانی سے مراد یہ ہے کہ اس واقعہ میں اہل فکر کے لیے سبق ہے۔ اس مثال میں ایک مادی واقعہ کے ذریعہ ایک غیر مادی سبق (non-material lesson) دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ شہد کی مکھی کی طرح ہر تجربہ سے ایک حکمت کی بات اخذ کرے۔
To extract wisdom from every experience.
جس طرح شہد کی مکھی یہ کرتی ہے کہ وہ آس پاس کی دوسری چیزوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک چیز کو دیکھتی ہے، اور وہ پھول کے اندر پایا جانے والا نیکٹر کنٹینٹ (nectar content) ہے۔ اسی طرح دنیا کی تمام مادی چیزوں کے اندر ایک اسپرچول کنٹینٹ (spiritual content) موجود ہوتا ہے۔
آدمی کو اتنا زیادہ تیار ذہن (prepared mind) ہونا چاہئے کہ وہ جس چیز کو دیکھے، اس پر جو تجربہ گزرے، ہر چیز سے اس کے سبق والے جزء کو اخذ کرلے۔ وہ آس پاس کی دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک چیز پر فوکس کرے، اور وہ چیزوں کے اندر سبق کا پہلو ہے۔ وہ چیزوں کے اندر سے ان کے سبق کے پہلو کو لے، اور اس کے بعد زندگی کے سفر میں آگے بڑھ جائے ۔ جو شخص سبق کے اس پہلو کو لے سکے، وہی دانش مند آدمی ہے، اسی کے اندر اس اعلیٰ شخصیت کی تعمیر ہوگی جس کو دانش مند شخصیت کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues