Al-Risala · March 2015 · page 23

قرآن کا ایک پہلو

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳

قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا۔ مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولیٹی سائز (politicize) کرکے، اس کے حق میں وقت کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل کر لی گئی تھی، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی نے عملاً مذہبی تشدد (religious persecution) کی صورت اختیار کر لی تھی۔ یہ صورت حال خدا کے قائم کردہ تخلیقی نقشے کے خلاف تھی۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ مذہب کے معاملے میں تشدد کا طریقہ ختم ہو، اس کے بجائے پورے معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا طریقہ رائج ہو جائے تا کہ ہر شخص آزادانہ طور پر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کر سکے۔

مذہبی جبر کے خاتمہ کا یہ عمل رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں شروع ہوا۔ تدریجی عمل (gradual process) کے تحت وہ تاریخ میں سفر کرتا رہا۔ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ عمل یورپ (Europe) میں پہنچا۔ اہل یورپ نے اس میں مزید اضافے کئے۔ یہاں تک کہ مذہبی آزادی کا مطلوب نظام اپنی آخری صورت میں قائم ہو گیا۔ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور لانے کے معاملے میں اہل یورپ کا رول تکمیلی رول کی حیثیت رکھتا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ کے اس واقعے کو سمجھیں، وہ اہل مغرب کے خلاف اپنے منفی ذہن (negative thinking) کو مکمل طور پر ختم کردیں، اس معاملے میں وہ اہل مغرب کے کنٹری بیوشن کا اعتراف کریں، وہ اہل مغرب سے رقابت کا تعلق ختم کردیں، اور اس کے بجائے دوستی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اس معاملے میں اہل مغرب کو اپنا محسن سمجھیں۔ مسلمانوں کے درمیان جب اس قسم کا مثبت ذہن پیدا ہوگا تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے منفی ذہن کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا، اور دعوت الی اللہ کا فریضہ بخوبی طور پر انجام پانے لگے گا۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قومی شکایتوں کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ مسلمان خدا کے قائم کردہ فطری نظام کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو استعمال کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2015 All issues

Printed page