Al-Risala · January 2015 · page 13

کے اردلی رو د پیدائی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳

تاریخی انتخاب لگی سلامیّوں کے آگے انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :الَّذِي خَلَقَ المَوْتَ وَالحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا الموت والحيوۃ ليبلوكم أيكم احسن عملا ) (۶۷:۲)

تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون حسن عمل والا ہے :

کے اردلی رو د پیدائی

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا تخلیقی نقشہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کو مختلف حالات میں زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے، اور پھر ان افراد کا انتخاب کیا جائے جو زندگی کے مختلف احوال کے درمیان یہ ثابت کرتے ہوں کہ وہ اپنے قول و عمل میں اعلیٰ معیار پر قائم رہنے والے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں خالق کا منصوبہ مبنی بر فرد منصوبہ ہے، نہ کہ مبنی بر مجموعہ منصوبہ۔ اس نقشہ تخلیق کے مطابق پوری تاریخ سے ایسے افراد منتخب کیے جارہے ہیں، جو ہر آزمائش کے بعد حسن عمل کے معیار پر پورے اتریں۔ ایسے جو افراد پائے جائیں، ان کو پوری تاریخ سے منتخب کر لیا جائے گا، اور پھر ان منتخب افراد کو جنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا، جہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی گزاریں گے۔

خالق کا تخلیقی منصوبہ یہ نہیں ہے کہ دنیا میں معیاری نظام قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) کا قائم ہونا ممکن نہیں۔ یہاں صرف معیاری افراد بن سکتے ہیں۔ یہی معیاری افراد خالق کا اصل مطلوب ہیں۔

تاریخ کے خاتمہ پر ان معیاری افراد کو پورے انسانی مجموعہ سے منتخب کر لیا جائے گا۔ جنت ںوں کے ساتھ پ، ی ، و وغیرہ انھیں منتخب افراد کے سماج کا نام ہے۔

یریبیت اى]]></thought>

‹ Previous page Next page › Contents of January 2015 All issues

Printed page