Al-Risala · April 2015 · page 11

جہاد بالقرآن، جہاد بالسيف

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۱۱

جہاد بالقرآن، جہاد بالسيف

اسلام میں جہاد کے عمل کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ جہاد کا مطلب لڑائی نہیں ہے، جہاد کا لفظی مطلب بھر پور کوشش (utmost struggle) ہے۔ کوئی شخص ایک مقصد کے حصول میں اپنی ساری کوشش صرف کر دے تو اسی کا نام جہاد ہے۔ قرآن کے مطابق، جہاد کی دو بڑی صورتیں ہیں، جہاد بالقرآن اور جہاد بالسيف۔ جہاد بالقرآن کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: وَجَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) یعنی اور قرآن کے ذریعہ ان سے جہاد کرو، بڑا جہاد۔ قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ قرآن کے پیغام کو لوگوں کے درمیان نظریاتی طور پر پھیلایا جائے، یعنی پر امن طور پر دعوتی کام (peaceful dawah work) انجام دینا۔ اسلام کا اصل مشن دعوت الى الله ہے۔ یہ ایک پر امن پیغام رسانی کا عمل ہے، جو ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہنے والا ہے۔ جہاد بالسيف کو قرآن میں قتال (war) کہا گیا ہے، اور اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقْتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے۔ اس آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال کا یہ عمل کوئی مستقل عمل نہیں۔ وہ ایک محدود عمل ہے، جو صرف فتنہ تک جاری رہے گا۔ فتنہ ختم ہو جائے تو یہ قتال بھی ختم ہو جائے گا۔

ایک حدیث کی وضاحت

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الجهاد ماض إلى يوم القيامة، مذ بعث الله محمدا صلى الله عليه وسلم إلى آخر عصابة من المسلمين، لا ينقض ذلك جور جائر، ولا عدل عادل (المعجم الأوسط للطبراني، رقم الحديث: 4775) یعنی جہاد جاری رہے گا قیامت تک، اس وقت سے جب کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، مسلمانوں کی آخری

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page