قرآن کا تصور تاریخ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۲۷
دروازہ کھول دیں۔ اب انسانی تاریخ اسی دور آزادی سے گزر رہی ہے۔
قرآن وحدیث کے اس بیان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ رب العالمین ہے جو انسانی تاریخ کو مینج (manage) کر رہا ہے۔ یہ خدائی مینجمنٹ اس مصلحت کے تحت ہو رہا ہے کہ دنیا کا اصل کیریکٹر، اس کا دار الامتحان (testing ground) ہونا قیامت تک باقی رہے، اور آزادانہ عمل کے تحت ہر فرد کاریکارڈ تیار ہوسکے۔
اللہ رب العالمین کے نقشہ تخلیق (creation plan) کے مطابق انسان تاریخ کا منیجر (master of history) نہیں ہے۔ انسان صرف اپنی ذات کا منیجر ہے۔ انسان کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ تاریخ کا کنٹرولر (controller of history) بننے کی کوشش کرے۔ انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات پر کنٹرول کرے، وہ اپنے آپ کو توحید اور عدل (justice) پر قائم کرے۔ یہی الدین ہے اور اسی کی ذاتی پیروی کا نام اقامت دین ہے۔
قدیم زمانے میں بادشاہوں نے تاریخ کا منیجر بننے کی کوشش کی۔ یہ اللہ کے نقشہ تخلیق کے خلاف تھا، اس لئے اللہ نے ہمیشہ کے لئے بادشاہی نظام کا خاتمہ کر دیا۔ موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے، یہ زمانہ خود اللہ کے نقشہ تخلیق کے تحت وجود میں آیا ہے۔ اس نظام کے تحت ہر عورت اور ہر مرد کو یہ موقع ہے کہ وہ آزادانہ طور پر جو چاہے کرے، اور اپنے قول و عمل کے مطابق وہ اللہ کے یہاں اپنا درجہ متعین کرے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اللہ کے اس نقشہ تخلیق کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے اللہ کے دین کی خود ساختہ تعبیر (self-styled interpretation) کے تحت اپنا یہ منصب فرض کر لیا کہ وہ ساری دنیا میں اپنی حکومت قائم کریں۔ یہ گویا دوبارہ تاریخ کا منیجر (manager of history) بننے کی کوشش ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کی اسکیم کے خلاف ہے۔ اللہ کسی کو یہ موقع دینے والا نہیں کہ وہ تاریخ کا منیجر بن جائے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری خود اپنے آپ کو اللہ کے تابع بنانا ہے، نہ کہ انسانی تاریخ کا منیجر بننا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کا خودساختہ جہاد مکمل طور پر ناکام ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کا خود ساختہ جہاد ان کو تاریخ کا منیجر تو نہ بنا سکا، البتہ وہ خود ایک تباہ شدہ قوم بن کر رہ گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues