Al-Risala · April 2015 · page 29

انسانیت کی منزل جنت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۲۹

انسانیت کی منزل جنت

قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہو جائیں گے ، وہاں کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو ان کی زبان سے نکلے گا : وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ (35:34) یعنی وہ اور کہیں گے، شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا، بے شک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے۔

And they will say, All praise belongs to God who has removed grief from us. Surely, our Lord is Most Forgiving, Most Appreciating. جنت کی یہ انوکھی صفت ہوگی کہ وہاں ہر قسم کے غم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ موجودہ دنیا اگر دار الحزن تھی تو جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو خالی از حزن (sorrow-free world) ہوگی۔ جنت میں نہ کوئی نفسیاتی غم ہوگا، اور نہ کوئی مادی غم۔

قرآن کے مطابق موجودہ دنیا میں انسان کو ضرورت کی تمام چیزیں حاصل ہیں (14:34)۔ لیکن ایک چیز ایسی ہے جو موجودہ دنیا میں اس کے لازمی جز کی حیثیت سے شامل ہے، اور وہ غم (حزن) ہے۔

موجودہ دنیا میں آدمی خواہ کچھ بھی حاصل کر لے لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے اس میں غم کا پہلو شامل رہتا ہے۔ جسمانی تکلیف، نفسیاتی پریشانی، کھونے کا اندیشہ، حادثہ، بیماری، تھکان (boredom)، تشنۂ تکمیل خواہش (unfulfilled desire)، بڑھاپا موت مستقبل کا اندیشہ، ملی ہوئی چیزوں کا امپر فیکٹ (imperfect) ہونا، عدم یقین (uncertainty)، آدمی کی محدودیت (limitations)، نتیجہ پر کنٹرول نہ ہونا، دوسروں کا خوف، تردّد (tension)، وغیرہ۔

جنت میں حزن کا نہ ہونا، ان تمام باتوں کو بتا رہا ہے، اور جو مقام ابدی طور پر حزن سے اس طرح خالی ہو، وہ بلا شبہ انسان کی منزل ہے، اس سے کم کوئی چیز انسان کی منزل نہیں ہو سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page