Al-Risala · April 2015 · page 30

خلافت ارضی

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۰

خلافت ارضی

قرآن میں بتا یا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنا یا ہے: إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (2:30) ۔ اس سے مراد نہ خدا کا خلیفہ ہونا ہے، اور نہ اسلامی خلیفہ ہونا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر با اختیار مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا ہے۔ یہ اختیارانہ حیثیت نہ فرشتوں کو حاصل ہے، اور نہ سورج اور چاند کو۔ قرآن کی دوسری متعلق آیتوں کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو استثنائی ذہن دیا گیا اور پھر اس کو آزادی عطا کی گئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے ذہن کو استعمال کرے، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہو۔ مخلوقات سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد ہے۔ پوری کائنات اللہ رب العالمین کی مجبورانہ حمد کر رہی ہے۔ مگر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، آزادانہ طور پر خدائی سچائی کو دریافت کرے، اور کسی جبر کے بغیر اس پر کھڑا ہو۔ یہی خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) وہ چیز ہے جو انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔

اس حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عن عبد اللہ ابن عمر و قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما من شئ اكرم على الله يوم القيامة من ابن آدم - قيل یا رسول الله، ولا الملائكة؟ قال: ولا الملائكة؛ إن الملائكة مجبورون بمنزلة الشمس والقمر (المعجم الكبير للطبراني، رقم الحديث: 14509) یعنی حضرت عبد اللہ ابن عمرو بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے افضل درجہ انسان کا ہوگا، کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا فرشتوں سے بھی؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، فرشتوں سے بھی، کیونکہ فرشتے سورج اور چاند کی مانند مجبور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ کا لفظ کسی عہدہ کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ صرف نوعیت حمد کو بتاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues

Printed page