انسان کا امتحان
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱
انسان کا امتحان
قرآن میں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر وہ اعلیٰ معرفت پیدا ہونی چاہئے، جب کہ وہ کہہ سکے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (1:1)۔ دوسری طرف قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ (90:4)، یعنی انسان کو اس کے خالق نے مشقت (hardship) میں پیدا کیا ہے۔ ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ مشقت کے حالات میں حمد کی اسپرٹ کے ساتھ جئے۔ وہ منفی حالات میں مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ زندگی گزارے۔ یہ بظاہر متضاد صورتِ حال (contradictory situation) ہے۔ پھر اس متضاد صورتِ حال کی حکمت کیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسان کے دماغ میں لامحدود امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual) میں تبدیل کرے، وہ اپنے لاشعور میں چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کرے، اس کو اپنے شعور کا حصہ بنائے۔ یہ کام معتدل حالات میں نہیں ہوسکتا، وہ صرف چیلنج کے حالات میں ہوسکتا ہے۔ دنیا کی مشقتیں انسان کے لئے اسی چیلنج کا سبب بنتی ہیں۔ چیلنج انسان کے دماغ کو زلزلے سے دوچار کرتا ہے، چیلنج انسان کے ذہن میں وہ ہلچل پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کی زبان میں ذہنی طوفان (brainstorming) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ زلزلہ خیز حالات ہیں جو انسان کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو بروئے کار لاتے ہیں۔ دنیا کے پر مشقت حالات انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ذہنی ارتقا کے مراحل سے گزرے، وہ اعلیٰ معرفت کے ساتھ الحمد لله رب العالمين کہہ سکے۔ دنیا میں پر مشقت حالات کا ہونا، انسان کے لئے ایک عظیم رحمت ہے۔ اس کے بغیر انسان کے اندر ذہنی بیداری اور روحانی ارتقا (spiritual development) ممکن نہ ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2015 All issues