خبر نامه اسلامی مرکز 233
الرسالہ، مئی ۲۰۱۵، صفحہ ۴۶
ایک مقابلہ کا پروگرام منعقد کیا تھا۔ جس میں اول نمبر آنے والے 150 طلبہ کو صدر اسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن دیا گیا۔ 9۔ 23 فروری 2015 کوسی پی ایس مشن کی ایک ٹیم نے سیکریڈ ہارٹ کالج، چنئی کے ایم اے (فلسفہ) کے طلبہ کے سامنے اسلام اور سی پی ایس مشن کے موضوع پر لکچر دیا۔ تمام سامعین نے اس کو بہت پسند کیا۔ 10۔ 25 فروری 2015 کو سی پی ایس کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے آئی آئی ٹی دہلی میں ’’اسلام: مذہب امن‘‘ کے موضوع پر ایک پاور پوائنٹ پرزنٹین دیا۔ لکچر کے بعد سوال وجواب ہوا۔ پروگرام کے آخر میں قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر تمام سامعین کو بطور گفٹ دیا گیا، جسے تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ ذیل میں ایک طالبہ کا تاثر نقل کیا جارہا ہے جو اس نے لکچر سننے کے بعد دیا ہے:
I never realized how important was the area in which the Centre for Peace and Spirituality was working till the time I attended the talk. After listening to the talk, it seemed as if Islam is one of the most sacred and peaceful religions of the world. It becomes difficult to accept the fact that people who indulge in violence call themselves followers of this religion. I really appreciate the work being done by CPS and its efforts in making people more humane in their approach towards fellow human beings. I was touched by the content of the talk and look forward to learning more in the area. (Shilpa Gahlot, IIT Delhi)
11۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ صدر اسلامی مرکز کی کتاب امن عالم کا انگریزی ترجمہ ہو چکا ہے۔ انگریزی ورژن کا نام ہے: Islam and World Peace۔ اس کے علاوہ ایک کتابچہ، اسلامی جہاد شائع ہو چکا ہے۔ 12۔ جرمنی کے ایک پبلشر نے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کو شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، یہاں ان کا پیغام نقل کیا جارہا ہے:
I am enthused with Maulana's books, and I think it is a great pity that they have not been translated into the German language yet. That is a service I would like to render. I would be glad if you could support me in my endeavor to introduce the books of this outstanding scholar to the German-speaking audience. I am sure the people in Germany would derive much benefit from them. May Allah reward the Maulana abundantly. (Mohammed Ardouz, Iqra Publications, Koln, Germany) 13۔ ذیل میں کچھ دعوتی تاثرات نقل کیے جارہے ہیں:
• میں ایک گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے کام کر رہی تھی۔ 1992 سے الرسالہ کی قاری ہوں جس زمانہ میں ، میں الرسالہ سے متعارف ہوئی اس زمانہ میں میں بہت ہی زیادہ اسٹریس (stress) اور گھریلو مسائل سے