Al-Risala · June 2015 · page 6

ایک سنتِ رسول

الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۶

ایک سنتِ رسول

قال ابن عمر لعائشة : أخبرينا بأعجب شيء رأيته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فبكت وقالت: كل أمره كان عجباً (الترغیب والترهیب: 666) یعنی عبد اللہ ابن عمر نے عائشہ سے کہا کہ مجھ کو یہ بتائیے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے عجیب چیز کیا دیکھی۔ یہ سن کر وہ رو پڑیں، اور کہا کہ آپ کی ہر بات عجیب ہوتی تھی۔ عجیب یہاں اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک اعلیٰ ذہنی صفت کے معنی میں ہے۔ وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات میں ایک نیا پن ہوتا تھا، آپ کی ہر بات تعجب خیز حد تک روایتی فکر سے مختلف ہوتی تھی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخلیقی فکر (creative thinking) کا معاملہ تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کامل درجے میں تخلیقی ذہن (creative mind) کی صفت رکھتے تھے۔ آپ کی اس صفت نے آپ کو اس قابل بنا دیا تھا کہ آپ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں۔ آپ چیزوں میں نئے پہلو کی نشاندہی کریں۔ آپ چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھیں، اور دوسروں کو اسے بتائیں۔ یہ تخلیقی فکر دراصل تدبر اور تفکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آپ کی صفات کے بارے میں ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : کان هو طويل الصمت دائم الفكر متواتر الأحزان (تاریخ دمشق لابن عساکر: 3/337) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک خاموش رہتے تھے، آپ ہمیشہ غور وفکر میں رہتے تھے، آپ مسلسل طور پر غم کی کیفیت میں ہوتے تھے۔

اس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے، یعنی مسلسل طور پر غور وفکر (contemplation) کی حالت میں رہنا۔ غور وفکر کا یہ معاملہ صرف خصائص نبوی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ رسول اللہ کی ایک قابل تقلید سنت کا معاملہ ہے۔ اس غور وفکر سے آدمی کے اندر گہرائی آتی ہے۔ یہ فکری گہرائی آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتی ہے، جس کو تخلیقی فکر کہا جاتا ہے۔ ایسا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے، وہ چیزوں کے نئے پہلو سے لوگوں کو باخبر کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues

Printed page