معرفت ایک تخلیقی عمل
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۷
معرفت ایک تخلیقی عمل
دین میں سب سے زیادہ اہمیت معرفت الہی (realization of God) کی ہے۔ معرفت کوئی جامد چیز نہیں۔ معرفت مسلسل طور پر ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ اس کو قرآن میں ازدیاد ایمان (8:2) کہا گیا ہے ۔ اس اضافہ پذیر معرفت کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) موجود ہو۔ اس کا جذبہ معرفت اتنا بڑھا ہوا ہو کہ ہر چیز سے اس کو معرفت کی غذا ملتی رہے۔ آل انڈیا ریڈیو پر ہر گھنٹہ خبریں آتی ہیں۔ درمیان میں دوسرے پروگرام بھی آتے رہتے ہیں۔ ایک دن میں نے ریڈیو کھولا تو ایک گانے والا ایک گیت گا رہا تھا، اس گیت کی ایک لائن یہ تھی: برباد میں یہاں ہوں، آباد تو کہاں ہے یہ الفاظ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے انسان درد کی حالت میں ہے اور وہ اپنے رب کو پکار رہا ہے۔ انسان اپنے خالق سے کہہ رہا ہے کہ تو نے پیدا کر کے مجھے ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا جو میرا ہیبی ٹیٹ (habitat) نہ تھا۔ اس دنیا میں درخت کو اس کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے، مچھلی کو اس کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے، حیوانات کو ان کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے۔ چنانچہ بقیہ دنیا میں احساس محرومی کا کوئی وجود نہیں۔ محرومی کا احساس صرف انسان کا تجربہ ہے۔ انسان کو پیدا ہونے کے بعد مسلسل طور پر احساس محرومی (sense of unfulfillment) میں جینا پڑتا ہے۔ وہ ذہنی سکون سے محروم رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔
یہ سوچتے ہوئے مجھے قرآن کی سورہ التین یاد آئی۔ اس سورہ پر غور کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے انسان، تیری یہ حالت اس لئے ہے کہ تو نے میرے کریشن پلان (creation plan) کو نہیں سمجھا۔ اگر تو میرے تخلیقی منصوبے کو دریافت کرتا تو تو یہ جان لیتا کہ میں نے تیرے لئے ایک اجر غیر ممنون (unending reward) تیار کر رکھا ہے۔ اس دریافت کے بعد تو یہ کرتا کہ اپنی ساری توجہ اپنے آپ کو اس انعام کا مستحق بنانے میں لگا دیتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues