قرآن کتاب تدبر
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۳۱
قرآن کتاب تدبر
قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: کِتٰبٌ أَنزَلۡنٰهُ إِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوۡا ءَايٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الۡأَلۡبَابِ. (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبر کے ساتھ کرے۔ صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ تدبر کے لیے تیار ذہن (prepared mind) درکار ہے۔
جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے۔ اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طور پر سمجھ سکے گا۔ اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ (2:282) ہے۔ متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے۔ سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔
قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نہی۔ ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طور پر عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً سمع اور بصر وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں، کچھ آیتیں براہ راست طور پر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طور پر۔
مثلاً إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الۡأَلۡبَابِ (13:19) اور إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لَّأُولِي النُّهَىٰ. (20:54) جیسی آیتوں میں براہ راست طور پر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں۔ اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام سمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو۔ عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues