قرآن کتاب تدبر
الرسالہ، جون ۲۰۱۵، صفحہ ۳۲
جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (1:1)۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے۔ اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کر سکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو۔ اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔
اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (النّاس)۔ یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے۔ وسوسہ کو چھو کر یا دیکھ کر نہیں جانا جا سکتا، وسوسہ کے شر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کر کے وسوسہ کو دریافت کرے۔ اس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے۔
یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے۔ مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)۔ غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہو سکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غور و فکر کے ذریعہ ممکن ہے۔ اسی طرح، مثلاً قرآن میں حج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (2:197)۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طور پر آپس میں اختلافات (differences) پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے۔ آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے۔
اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (48:1)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریق ثانی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2015 All issues