اختلاف کا سبب
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۲
ہے جس کو مذکورہ حدیث میں فتنة دہیماء کہا گیا ہے، یعنی قرآن وحدیث کی تشریح و تعبیر میں اختلافات سے تصور دین کا غیر واضح ہو جانا۔
اختلاف کا سبب
امت کی بعد کی نسلوں میں فکری اختلاف کا سبب کیا ہے۔ یہ سبب وہی ہے جو پچھلی امتوں میں پیدا ہوا۔ پچھلی امتوں کا واقعہ امت مسلمہ کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی سورہ البینہ میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: ﴿وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ ﴾ (98: 4-5) یعنی جو لوگ اہل کتاب تھے، وہ واضح دلیل آجانے کے بعد مختلف ہو گئے۔ حالاں کہ ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے لیے دین کو خالص کر دیں، یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی درست دین ہے۔
پچھلی امتوں میں جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اُن کو اللہ کی کتاب دی گئی تھی، لیکن ان کی بعد کی نسلوں کے درمیان کتاب کی تشریح و توضیح میں علماء کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ ان اختلافات کی بنا پر امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ اختلاف کا یہی واقعہ ،فطرت کے قانون کے مطابق، امت مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں پیش آئے گا۔ دونوں کا مشترک سبب ایک ہے۔
یہ معاملہ کیوں پیش آتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میں دین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے زندہ ہوتا ہے۔ لوگوں پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین اصلاً اسپرٹ کا نام ہے۔ جہاں تک اس کی ظاہری صورت یا فارم (form) کا تعلق ہے، وہ دین کا ایک اضافی حصہ (relative part) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت ہوتی ہے۔ اس لیے امت جب تک اسپرٹ والے دین پر قائم ہو، اُس وقت تک اس کا اتحاد باقی رہتا ہے، لیکن بعد کے دور میں زوال کی بنا پر اسپرٹ مفقود ہو جاتی ہے اور لوگ دین کے فارم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں۔ چوں کہ فارم میں ہمیشہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues