اختلاف کا سبب
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۳
اختلاف ہوتا ہے، اس لیے امت جب زوال کا شکار ہو کر فارم پر قائم ہو جائے تو ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلے اختلاف آتا ہے، پھر فرقہ بندی ہوتی ہے اور پھر مختلف گروہوں کے درمیان تشدد شروع ہو جاتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول میں آیا ہے: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب (مسند احمد، حدیث نمبر: 22671) یعنی سورہ الفاتحہ کے بغیر کوئی نماز، نماز نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صحابہ کے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھا، لیکن اس کی بنا پر لوگوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا، کیوں کہ اس زمانے میں اسپرٹ بھر پور طور پر زندہ تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اصل چیز یہ ہے کہ حالتِ نماز میں سورہ الفاتحہ کے معانی کی یاد دہانی ہوتی رہے۔ سِرّی نمازوں میں ہر آدمی خود سورہ الفاتحہ پڑھتا تھا اور جہری نمازوں میں ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ امام کی زبان سے سورہ الفاتحہ کو سُن کر قراتِ فاتحہ کا مقصد نیابتاً حاصل ہو گیا۔
لیکن بعد کے زمانے میں جب امت کے اندر زوال آیا اور ساری اہمیت عبادت کے فارم کو دی جانے لگی، اُس وقت اس حدیث کو لے کر لوگوں کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہو گیا۔ ایک گروہ نے کہا کہ جہری نمازوں میں سورہ الفاتحہ کی نیابةً ادائیگی کافی ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہر مصلی کو لازماً اپنی نماز میں ذاتی طور پر سورہ الفاتحہ پڑھنا چاہیے، حتی کہ جہری نمازوں میں جب کہ امام بلند آواز سے قرات کر رہا ہو، تب بھی مقتدیوں پر لازم ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سورہ الفاتحہ پڑھیں، ورنہ ان کی نماز نہیں ہوگی۔
قرآن کی مذکوره آیت (5: 4-98) میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ زوال کے دور میں پچھلی امتوں کے درمیان اسی سبب سے اختلافات پیدا ہوئے۔ امت مسلمہ کے درمیان بھی اس کے زوال کے دور میں یہی صورت حال لازماً پیش آئے گی اور اس اختلاف کی بنا پر دین میں رایوں کا اختلاف اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ عام انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جائے گا کہ خدا کا بھیجا ہوا اصل دین (دین قیم) کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues