پیغمبرانہ پیشین گوئی
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۴
پیغمبرانہ پیشین گوئی
حضرت علی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه - مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى - علماءهم شر من تحت أديم السماء، من عندهم تخرج الفتنة وفيهم تعود (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: 1763) یعنی قریب ہے کہ لوگوں کے اوپر وہ زمانہ آئے جب کہ اسلام کا صرف نام باقی رہے اور قرآن کی صرف تحریر باقی رہے۔ ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی ۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے سب سے برے لوگ ہوں گے۔ ان سے فتنہ نکلے گا، اور انھیں کی طرف فتنہ لوٹے گا۔
اس حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اُس وقت کی پیشین گوئی ہے جب کہ دیہماء کا فتنہ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہوگا ۔ اُس زمانے میں بظاہر اسلام کے نام پر بڑی بڑی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن اس سرگرمیوں میں دین کی اصل حقیقت موجود نہ ہوگی۔ قرآن کے نسخے ہر جگہ موجود ہوں گے، لیکن لوگ قرآن کے صرف الفاظ کو جانتے ہوں گے، قرآن کے معانی سے وہ بالکل بے خبر ہوں گے۔
امت کا فکری زوال
ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ: خير أمتي قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3650)۔ اس حدیث رسول میں اسلام کے تین ادوار کو خیر کے ادوار کہا گیا ہے۔ ان ادوار کو قرون ثلاثہ یا قرون مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ ان تین ادوار سے مراد ہے - عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین ۔ ان تین ابتدائی ادوار کی مدت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد وہ دور شروع ہو گیا جو قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد کا دور تھا۔ گو یا کہ اسلام کی تاریخ میں مستند ادوار صرف ابتدائی تین ادوار ہیں۔ بعد کے ادوار کو اسلام میں مستند حیثیت حاصل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues