Al-Risala · August 2015 · page 15

امت کا فکری زوال

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۵

اس مسئلے کی مزید تعین کی جائے تو کہا جائے گا کہ اسلام کے ابتدائی تین ادوار میں اسلام کا فکری مرجع تمام تر قرآن تھا۔ ثانوی مرجع کے طور پر حدیث بھی اس میں شامل ہے، کیوں کہ حدیث قرآن کی تشریح ہے۔ حدیث کے بغیر قرآن کو درست طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ تقریباََ سو سال بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو فقہی دور کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کے علاقے فتح ہوئے اور بتدریج اس علاقے کے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ اس کے بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا ظاہر ہ پیدا ہوا جس کو عمومی قبولِ اسلام (mass conversion) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اسلام سے پہلے مجوسی مذہب یا مسیحی مذہب میں شامل تھے۔ ان تمام مذاہب میں اُس وقت ساری اہمیت صرف فارم (form) کو دی جاتی تھی۔ اِن لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے۔ یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جس کو فقہ کہا جاتا ہے۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیثوں کی جمع وتدوین شروع ہوئی۔ فقہاء نے فارم کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے حدیثوں کو دیکھا۔ احادیث کے ذخیرے میں مختلف صحابہ کی زبان سے یہ بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عبادت کرتے تھے۔ فقہا کو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں۔ مثلاً کسی صحابی کی روایت آمین بالسر کے حق میں تھی تو کسی صحابی کی روایت آمین بالجہر کے حق میں تھی۔ احادیث کے ذخیرے میں اس طرح کے کثیر اختلافات موجود تھے۔

یہیں سے مسلمانوں میں ایک ڈی ریلمنٹ (derailment) شروع ہوا۔ فقہاء کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ دین میں اگر چہ اسپرٹ ایک ہے، لیکن فارم میں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے، اس لیے تم جس صحابی کی روایت پر چاہو عمل کرو۔ البتہ تم کو سب سے زیادہ دھیان اسپرٹ پر دینا چاہیے ۔ لیکن فقہاء نے یہاں بطورِ خود یہ اصول وضع کیا کہ فارم کے بارے میں مختلف روایتوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page