Al-Risala · August 2015 · page 16

امت کا فکری زوال

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۶

کوئی ایک ہی روایت درست ہو سکتی ہے، اس لیے اس ذہن کے تحت انھوں نے ترجیح کا اصول وضع کیا۔ وہ بحث ومباحثے کے ذریعے ایک طریقے کو رائج اور دوسرے طریقہ کو مرجوح قرار دینے لگے۔ ترجیح کا یہ اصول سب کو ایک رائے پر جمع نہیں کر سکتا تھا، کیوں کی امام شافعی کے الفاظ میں، ساری بحثوں کے باوجود فریق ثانی کے حق میں یہ احتمال باقی رہتا تھا کہ شاید اس کی رائے درست ہو۔ دین میں اسپرٹ کے بجائے فارم کو اہمیت دینے کا یہ فقہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے ایک رجحان ساز (trendsetter) واقعہ بن گیا۔ اس کے بعد دینی موضوعات پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریبا سب کی سب اسی نہج پر لکھی گئیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ دین بیضا کا دین غیر بیضا بن جانے کا اصل سبب یہی ہے۔

اگر آپ فقہی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ فقہ میں بظاہر اسلام کی مختلف تعلیمات زیر بحث آتی ہیں، لیکن عملاً تمام فقہی بحثیں ان تعلیمات کے فارم پر ہوتی ہیں۔ فقہ کا یہ پیٹرن اصولی بنیاد پر نہیں بنا، بلکہ حالات کے زیر اثر (situational factor) بنا ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سارا زور اسلام کی اسپرٹ پر دیا گیا ہے، لیکن فقہ میں ایک شفٹ آف ایمفیس (shift of emphasis) کا واقعہ پیش آیا اور سارا زور اسپرٹ کے بجائے فارم پر دیا جانے لگا۔ قرآنی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن اس کے بعد مزید یہ ہوا کہ فقہ کا یہ اسلوب، عملاً اہل علم کے درمیان عام ہو گیا۔ بعد کے اہل علم نے اسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کر لیا۔ وہ اسی انداز میں سوچنے لگے اور اسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے۔ یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اس سے مستثنیٰ نہیں۔

مثلاً ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) کی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ اسی نہج کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ابن تیمیہ نے شاتم رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ صرف اس لیے کہ فقہانے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطور سزا قتل کیا جائے گا (یقتل حدا)۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page