Al-Risala · August 2015 · page 17

معانی کے بجائے الفاظ کی اہمیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۷

حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں۔ ابن تیمیہ اگر کتب فقہ سے اوپر اٹھ کر اس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دینا ہے، نہ کہ قتل کرنا۔ شاتم بظاہر دشمن نظر آتا ہو، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے۔ اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہو جائے (41:34)۔ اس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء) کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت (6:149) سے ماخوذ ہے۔ مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے تمام مباحث فقہی اسلوب پر مبنی ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں سترہ سے لے کر جہاد تک کے تمام ابواب موجود ہیں، لیکن اس میں دعوت الی اللہ کا باب موجود نہیں۔ حالاں کہ اگر مصنف ، قرآن کے اسلوب کا تتبع کرتے تو یقیناً وہ اس حقیقت کو دریافت کر لیتے کہ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دی گئی ہے۔ قرآن پورا کا پورا ایک کتاب دعوت ہے۔

معانی کے بجائے الفاظ کی اہمیت

اسلام کو مبنی بر فارم مذہب (form-based religion) قرار دینے کا دوسرا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ اسلام میں عقلی توجیہہ (rational interpretation) کا مزاج ختم ہو گیا۔ قرآن وحدیث کے مطالعے میں ساری اہمیت لفظی تشریح (literal interpretation) کو دی جانے لگی۔ بعد کے زمانے میں مسلم اہل علم نے جو کتابیں لکھیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی نہج پر لکھی گئیں۔ اس معاملے میں غالباً صرف ایک کتاب مقدمۃ ابن خلدون کا استثنا ہے۔ اس منہج فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے اندر عملاً عقلی غور وفکر مکمل طور پر مفقود ہو گیا۔

علامہ انور شاہ کشمیری (وفات: 1934ء) برصغیر ہند کے مشہور عالم ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ حدیث (الحلال بین والحرام بین) کو سمجھنے کے لیے انھوں نے حدیث کی تمام متداول شرحیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page