دو مثالیں
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۸
دیکھیں، مگر کسی شرح میں انھیں اس حدیث کی کوئی بامعنی وضاحت نہیں ملی۔ چناں چہ وہ اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: لم يتحصل عندنا منه شيء غير حل الألفاظ (فيض الباري علي صحيح البخاري: 1/ یعنی حل الفاظ کے سوا مجھے اس میں کچھ اور نہیں ملا۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا یہ تبصرہ حدیث کی تمام شرحوں پر صادق آتا ہے۔
دو مثالیں
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو خفین پر مسح کا مسئلہ کہا جاتا ہے، یعنی مسافر آدمی اگر وضو کر کے موزوں کے اوپر مسح کرے تو تین دن تک اُس کو وضو کے موقع پر اپنا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں۔ اُس کے لیے صرف موزوں کے اوپر مسح کرنا کافی ہوگا۔ اس شرعی مسئلے کے بارے میں امام ابو حنیفہ (وفات: 767ء) کہتے ہیں کہ دین کی بنیاد اگر رائے (عقل) پر ہوتی تو میں کہتا کہ پاؤں کے نیچے سے مسح کیا جائے، نہ کہ پاؤں کے اوپر سے۔
امام ابو حنیفہ کا یہ قول صرف اس لیے ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں حدیث رسول کو محض الفاظ کے اعتبار سے لیا۔ انھوں نے اس حدیث رسول پر عقلی اعتبار سے غور نہیں کیا۔ اگر وہ اس حکم پر غور کرتے تو وہ کہتے کہ مسح علی الخفین وضو کا بدل نہیں ہے، بلکہ وہ وضو کی ایک علامت ہے۔ آدمی جب موزے کے اوپر مسح کرتا ہے تو وہ علامتی طور پر وضو کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اور جب وہ علامتی ہے تو یہ بات اضافی ہو جاتی ہے کہ پاؤں کی کس سمت سے مسح کیا جائے۔
اسی طرح اس معاملے کی ایک مثال ابن قیم الجوزیۃ (وفات: 1350ء) کی مشہور کتاب طريق الهجرتين وباب السعادتين‘ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہجرت کی دو تقسیم کی ہے— ایک، اللہ کی طرف ہجرت، یعنی اللہ کی عبادت اور اللہ سے محبت، وغیرہ۔ دوسرے، رسول کی طرف ہجرت، یعنی رسول کی سنت کا اتباع۔
اسلام میں ہجرت یا مہاجرت صرف ایک چیز کا نام ہے اور وہ صرف ترک وطن
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues