Al-Risala · August 2015 · page 19

دو مثالیں

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۱۹

(migration) ہے۔ مصنف نے دو ہجرت کا تصور صرف ایک لفظی بنیاد پر اخذ کیا ہے، وہ یہ کہ صحیح البخاری کی پہلی روایت جو نیت کے بارے میں ہے، اس میں یہ الفاظ آئے ہیں: فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله (صحیح البخاري، حدیث نمبر: (54) اس حدیث میں طریق ہجرت کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ نیت ہجرت کو بیان کیا گیا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہجرت کی دو قسمیں ہیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ہجرت صرف وہ ہے جو رضاء الہی کے جذبہ سے کی جائے۔

اس اسلوب کا نقصان یہ ہے کہ اس میں وضوح (clarity) کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر آدمی صحیح طور پر نہ ہجرت کی حکمت کو سمجھ پاتا ہے اور نہ دوسرے مذکورہ اعمال کی حکمت کو۔ گو یا جدید تعلیم کی اصطلاح میں یہ ایک مائنس مارکنگ (minus marking) کا معاملہ ہے جس میں دونوں قسم کے احکام کی گہری معنویت قاری کے ذہن سے حذف ہو جاتی ہے۔

بعد کے زمانے میں جو کتا بیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی اسلوب پر لکھی گئیں۔ اسلام کی ابتدائی تین نسلوں تک لوگوں کے درمیان قرآنی طرزِ فکر غالب تھا۔ بعد کو مسلمانوں میں جو دور آیا، اس میں عام طور پر فقہی اسلوب کا غلبہ ہو گیا۔ تاہم پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے سے پہلے اس ذہن کی اشاعت صرف محدود پیمانے پر ہو سکتی تھی، کیوں کہ اُس زمانے میں کتابیں مخطوطات (manuscripts) کی شکل میں ہوتی تھیں اور مخطوطات کے ذریعے کسی فکر کی عمومی اشاعت ممکن نہیں تھی ۔ اٹھارھویں صدی عیسوی میں جب پریس کا زمانہ آیا تو اس کے بعد مسلم اہل علم کی کتابیں چھپ کر عمومی طور پر پھیلنے لگیں، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ ہر زبان میں اس قسم کی مطبوعہ کتابیں اتنا زیادہ عام ہوئیں کہ کوئی بھی مسلمان اُس سے بے خبر نہ رہا۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں جس فتنه دہیماء کا ذکر ہے، وہ اصلا یہی فتنہ ہے، یعنی قرآنی طرزِ فکر کا خاتمہ اور فقہی طرزِ فکر کی عمومی اشاعت اور پھر دورِ پریس میں اس کا اتنا زیادہ بڑھ جانا کہ کوئی بھی مسلمان اس کی زد سے محفوظ نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page