فہم دین
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۰
فہم دین
دین اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے۔ قرآن کا صحیح فہم ہی دین کے صحیح فہم کا ضامن ہے۔ قرآن کو سمجھنے میں اگر غلطی ہو جائے تو دین کو صحیح طور پر سمجھنا ممکن نہ ہوگا۔ اصحاب رسول کو دین اسلام میں ماڈل کی حیثیت حاصل ہے اور اصحاب رسول کی پوری تربیت اسی قرآن کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم، ونحن فتيان حزاورة، فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيمانا (ابن ماجه، حدیث نمبر: 61) یعنی ہم کچھ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ ہم نے آپ کے ساتھ رہ کر ایمان سیکھا، اس سے پہلے کہ ہم قرآن سیکھیں۔ اس کے بعد ہم نے قرآن سیکھا تو قرآن ہمارے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ بن گیا۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ قرآن کے مرکزی مضمون (central theme) کو دریافت کیا جائے۔ قرآن کے مرکزی مضمون کی دریافت ہی وہ چیز ہے جو پوری قرآن کو بامعنی بناتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد مومن کے ذہن میں ایک ربانی پراسس جاری ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک تدریجی عمل کے ذریعے اس کے اندر اُس شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے جس کو مومن کہا جاتا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ انسان کو خالق کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کیا جائے، تاکہ انسان اس کے مطابق، اپنی زندگی کی کامیاب تعمیر کر سکے۔ اس تعمیر شخصیت کا آغاز خدا کی معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے۔
اس کے بعد آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو اپنی ذات کی نسبت سے، اللہ کا عبادت گزار بننا ہے، اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے، اس کو پرامن دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے۔ یہی تین چیزیں ہیں جو ایک انسان کے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues