وضوح کا مسئلہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۱
وضوح کا مسئلہ
اسلام کے دور اول (قرون مشهود لها بالخير) میں دین کا یہی تصور غالب تصور کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے اس میں کمی (erosion) شروع ہوئی اور پھر وہ وقت آیا جب کہ عمومی طور پر دین کا یہ تصور گم ہو گیا۔ عمر بن عبد العزیز (وفات: 720ء) غالباً اسلام کے دور اول کے آخری شخص ہیں۔
اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا زمانہ وہ ہے جب کہ لوگ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں بیت المال میں آنے والے جزیہ کی رقم بہت کم ہو گئی تھی۔ چنانچہ خراسان کے ایک گورنر جراح بن عبد اللہ نے عمر بن عبد العزیز سے شکایت کی اور کہا کہ مفتوح ممالک میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ چوں کہ اسلام لانے کے بعد جزیہ ساقط ہو جاتا ہے، اس لیے لوگوں کے بکثرت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مملکت کا مالیہ بہت کم ہو گیا ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو خزانہ خالی ہو جائے گا۔ عمر بن عبد العزیز نے گورنر کو لکھا۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا تھا، ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا۔ إن الله إنما بعث محمد أ صلى الله عليه وسلم داعياً ولم يبعثه جابياً (البداية والنهاية: 9/213)
عمر بن عبد العزیز کے زمانے کے ایک اور گورنر عدی بن ارطاة نے اس طرح کی شکایت کو لے کر خلیفہ کو لکھا۔ لوگ بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کے نتیجے میں حکومت کے مالیہ میں کمی ہو جائے گی (فإن الناس قد كثروا في الإسلام، خفت أن يقل الخراج)۔ اس کا جواب خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے ان الفاظ میں دیا: والله لو ددت أن الناس كلهم أسلموا، حتى نكون أنا وأنت حراثين نأكل من كسب أيدينا (سيرة عمر بن عبد العزيز، لابن الجوزي: 124) یعنی خدا کی قسم، مجھے یہ پسند ہے کہ سارے لوگ اسلام قبول کر لیں، یہاں تک کہ میں اور تم دونوں کاشت کار بن جائیں اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق حاصل کریں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کلام میں وضوح (clarity) کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ کلام میں وضوح کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues