Al-Risala · August 2015 · page 22

دین کی تعبیر میں اختلاف

الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۲

راز یہ ہے کہ صاحب کلام کے اندر وہ صفت موجود ہو جس کو قرآن میں فرقان (8:29) کہا گیا ہے، یعنی چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر کے دیکھنا۔ ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کر کے رائے قائم کرنا۔ اسی اصول تمیز(principle of differentiation) کا نام حکمت ہے اور اس حکمت کا حامل کوئی شخص جب کلام کرے تو اس کا ذہن فطری طور پر چیزوں کی مختلف نوعیت کو جان لیتا ہے اور اس کے مطابق، کلام کرتا ہے۔ جس کلام میں یہ صفت پائی جائے اس کے اندر لازمی طور پر وضوح موجود ہو گا۔ اس اعتبار سے، مذکورہ مثال پر غور کیجئے ۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ تھا کہ کثرت اسلام سے حکومت کا مالیہ کم ہو رہا تھا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کا اصل مشن یہی تھا کہ لوگوں کو سچائی ملے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے دونوں پہلوؤں کو الگ کر کے دیکھا، اس لیے وہ ایک واضح اور درست رائے تک پہنچ گئے۔

اس کے برعکس، ان کے دونوں گورنروں کا حال یہ تھا کہ وہ اس صلاحیتِ فرقان کا ثبوت نہ دے سکے۔ اس لیے انھوں نے ایک ایسی بات کہی جس میں وضوح موجود نہ تھا، اُن کے کلام میں مالیاتی پہلو کی اہمیت موجود تھی، لیکن اُن کے کلام میں دعوتی پہلو کی اہمیت مفقود ہوگئی تھی۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلام میں کس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہے۔ وہ یہی ہے کہ اپنے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کی جائے اور دوسروں کو اللہ کا پیغام پہنچایا جائے ۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق، اسلام کی بعد کی تاریخ میں دوبارہ کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو اس حقیقت کا شعور رکھتا ہو اور کھلے طور پر اس کا اظہار کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو حدیث میں فتنة وہیماء کہا گیا ہے، اس کا زمانہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی کامل صورت میں پوری مسلم امت کے درمیان چھا گیا۔

دین کی تعبیر میں اختلاف

فتنة وہیماء کیا ہے۔ فتنه وہیماء کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ فتنه وہیماء دراصل یہ ہے کہ قرآن کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues

Printed page