دین کی تعبیر میں اختلاف
الرسالہ، اگست ۲۰۱۵، صفحہ ۲۳
مرکزی مضمون لوگوں پر واضح نہ رہے اور لوگ اپنے اپنے مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت قرآن وسنت کی تشریح و تعبیر کرنے لگیں۔ اس کے نتیجے میں افکار اور آرا کا اختلاف اتنا بڑھ جائے کہ اصل حقیقت اس کے اندر گم ہو جائے اور یہ معلوم کرنا سخت دشوار ہو جائے کہ وہ اصل دین کیا ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر کی طرف بھیجا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تقریباً ایک سو سال بعد اسلام کی جو علمی تاریخ بنی، اس کے موضوعی مطالعہ (objective study) سے بخوبی طور پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔ عباسی دور میں یہ ہوا کہ دین کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو لے کر ساری بحث ہونے لگی۔ فارم میں چوں کہ تعدد (diversity) تھا، اس لیے فطری طور پر لوگوں کی تعبیرات میں بھی تعدد پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد متن (text) کو لے کر یہ بحثیں شروع ہوئیں کہ کسی لفظ کا کیا مفہوم ہے۔ الفاظ میں بھی ہمیشہ ایک سے زیادہ مفہوم کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے یہاں بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ معانی کا مفہوم متعین کرنے میں کثرت سے اختلافات پیدا ہو گئے ۔ اس طرح بعد کے زمانے میں دین کی مختلف تعبیرات کو لے کر الگ الگ گروہ بننے لگے، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، امت مسلمہ 73 فرقوں میں، بلکہ اُس سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو گئی۔ اسی طرح سیاسی مفاد کے تحت لوگوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ۔ ہر فریق اپنے موقف کو قرآن وحدیث سے جائز ثابت کرنے لگا۔ اس صورت حال نے بھی تعبیرات دین میں اختلافات کا ایک جنگل پیدا کر دیا۔
بیسویں صدی عیسوی میں اس صورت حال میں مزید اضافہ ہوا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ سیکولر نظام کے غلبے کے تحت مسلمانوں کے درمیان مختلف قسم کی تحریکیں برپا ہوئیں اور پریس کی طاقت کے تحت تیزی سے لوگوں کے درمیان پھیلیں۔ اس زمانی اثر کے تحت مسلمانوں کے درمیان بھی مختلف قسم کی تحریکیں اٹھیں اور مختلف قسم کے نظریات کی اشاعت ہونے لگی۔ اس طرح فکری اختلافات کا معاملہ اپنی کمیت کے اعتبار سے، بہت زیادہ بڑھ گیا۔ بیسویں صدی کے آخر میں فتنہ وہماء کا کلچر اپنی آخری انتہا تک پہنچ گیا۔ اب یہ حالت ہو گئی کہ اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ دین اسلام اپنی اصل حقیقت کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2015 All issues